اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی اعلیٰ اسلامی شیعہ کونسل کے نائب سربراہ شیخ علی خطیب نے لبنان اور خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطہ بدستور کشیدہ حالات سے دوچار ہے اور لبنان، یمن، شام اور فلسطین سمیت مختلف علاقوں میں کشیدگی کے پھیلنے کے خدشات برقرار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور صیہونی ریاست کی جانب سے سیاسی عمل میں تاخیر نے بحرانوں کے حل کے لیے کوئی واضح راستہ باقی نہیں چھوڑا۔
لبنان کی صورتحال کے حوالے سے شیخ علی خطیب نے کہا کہ بعض حلقے مسائل کے حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ صیہونی حکام جنوبی لبنان کے زیر قبضہ علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مزاحمت قبضے کے ردعمل میں وجود میں آئی ہے، قبضہ مزاحمت کے نتیجے میں نہیں آیا، اس لیے جب تک قبضہ برقرار ہے، مزاحمت کو غیر مسلح کرنا فطری نہیں۔
شیخ علی خطیب نے مزید کہا کہ قبضہ ختم ہونے کے بعد قومی دفاعی حکمت عملی کے دائرے میں مزاحمت کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکمت عملی لبنانی حکومت، بالخصوص صدرِ لبنان کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ موقف لبنان کی شیعہ جماعتوں اور حلقوں کا مشترکہ اور متفقہ مؤقف ہے۔
انہوں نے لبنانی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ صرف ایک ہی راستے اور براہِ راست مذاکرات کی پالیسی پر اصرار ترک کریں، کیونکہ گزشتہ سات ادوار کے مذاکرات سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔
شیخ علی خطیب نے صیہونی حملوں اور لبنان میں لوگوں کی بے گھری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 40 ہزار سے زائد بے گھر خاندانوں کی مدد اور دیکھ بھال ضروری ہے۔ ان خاندانوں کو اپنے علاقوں میں واپسی تک رہائش اور ضروری سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کے شیعہ حلقے ایک ایسی مضبوط حکومت کے خواہاں ہیں جو عوام اور ملک کی خودمختاری کا تحفظ کر سکے۔
شیخ علی خطیب نے پورے ملک میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت ’’ریاست کے اندر ریاست‘‘ قائم کرنے یا علیحدگی کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی، بلکہ وہ منصفانہ قومی شراکت داری اور عوام کے وقار کے تحفظ کی خواہاں ہے۔
آپ کا تبصرہ