بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی پانچویں فورس "بسیج مستضعفین" کے سربراہ حجت الاسلام و المسلمین حسین طائب، نے ملک کی "بسیجِ اساتذہ" کے نئے سربراہ کی تعارفی تقریب میں عالمی نظام میں تبدیلیوں کی رفتار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: تبدیلیوں کا رخ اس طرح بڑھا ہے کہ تبدیلی کی رفتار، پہلے کی گئی پیش گوئیوں سے آگے نکل گئی اور عالمی نظام بنیادی انقلاب سے دوچار ہؤا۔
انھوں نے مزید کہا: امریکیوں کا ابتدائی اندازہ تھا کہ امریکہ کی آزادی کی 250ویں سالگرہ پر، امریکہ کی عالمی نمبرداری اور عالمی کمیونکیشن ولیج کا جشن منائیں گے، لیکن 2020 کے بعد سے تبدیلیاں کا رخ یہ ہؤا کہ امریکیوں کو، باوجود اس کے کہ انھوں نے ترکیبی جنگ (Hybrid warfare) کو ترجیح دینا تھی، مجبوراً فوجی جنگ کی طرف جانا پڑا۔
حجت الاسلام طائب نے جاری رکھا: ٹرمپ آئے اور ماضی کی روایتی سیاست کے تصور کو بدل دیا، اور امریکہ ایسے راستے پر گامزن ہونے پر مجبور ہؤا جو اکیسویں صدی کی تقدیر کو جنگ کے ذریعے رقم کرے!
بسیج مستضعفین کے سربراہ نے امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے علمی-سائنسی اجارہ داری قائم کرنے کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امریکیوں اور یورپیوں نے اپنی علمی-سائنسی ترقی کے ذریعے اسی قدر کی پیروی کی جو 250 سال قبل امریکہ کی انگلستان سے آزادی کے دوران پیش کی گئی تھی، یعنی سائنس کی اجارہ داری اپنے قبضے میں لی جائیں:
- پوری دنیا کو علمی-سائنسی طور پر امریکہ کا محتاج بنایا جائے؛
- دنیا میں دولت کی پیداوار بھی سائنسی برتری کی بنیاد پر، اپنے ہاتھ میں رکھی جائے۔
انہوں نے واضح کیا: انہیں اس راستے میں کامیابیاں حاصل ہوئیں اور وہ اس عمل کو دنیا میں آگے بڑھانے میں کامیاب رہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہؤا کہ وہ صبر نہ کر سکے۔
امریکہ کے اندر پیدا ہونے والی دوہری پالیسیوں نے اس کی حکمتِ عملی بدل دی
حجت الاسلام طائب نے کہا کہ تبدیلیوں کی رفتار اور امریکہ کے اندر پیدا ہونے والی دوہری پالیسیاں اس ملک کی حکمتِ عملی میں تبدیلی کا سبب بن گئیں۔
انھوں نے کہا: امریکیوں کو مجبوراً اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنا پڑی تاکہ اس صورتحال سے نکل سکیں، اور دنیا فوجی جنگ کی طرف آگے بڑھے۔
انھوں نے مزید کہا: وہ آخر کار ہمارے خطے تک پہنچے اور اسرائیل کی پوری جنگی مشینری کا انتظام چلایا؛ اس رجیم کو پیسہ دیا، اسے انتہائی طاقتور ہتھیار فراہم کئے، اور روزانہ درجنوں کارگو طیارے بم اور میزائل لے کر خطے میں اتارے گئے۔
بسیج مستضعفین کے سربراہ نے مزید کہا: اگر پہلی مسلط کردہ جنگ (ایران-عراق جنگ) کے دوران انہیں آٹھ سال تک اپنی دو تہائی فوج خطے میں استعمال کرنا پڑی اور امریکہ کی زیادہ تر فوجیں اور اسپیشل آپریشنز کی صلاحیت اور جنگی مشینری میدان میں اتارنا پڑی، تو آخر کار خود بھی براہِ راست جنگ کے میدان میں آنے پر مجبور ہوئے۔
حجت الاسلام طائب نے حالیہ جنگ کے دوران صہیونی رجیم اور امریکہ کے طرز عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: جو فوج اسکول اور شادی کی تقریب کو نشانہ بناتی ہے، وہ سپر پاور کی فوج نہیں؛ بلکہ مجرم اور طفل کُش فوج ہے، اور آج پوری دنیا اس حقیقت کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہی ہے۔
انھوں نے مزید کہا: پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح امریکہ کی ٹریلینز ڈالر کی فوج، ـ جس کا سالانہ بجٹ تقریباً ایک ٹریلین (یعنی 1000 ارب) ڈالر ہے، ـ ایک ایسی مسلح قوت کے سامنے میدان ہار گئی جس کا دفاعی بجٹ بہت محدود تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ