1 ستمبر 2026 - 16:21
دنیا کو ایک طاقت کی بالادستی نہیں، منصفانہ نظام کی ضرورت ہے:ایرانی صدر

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا شنگھائی پلس اجلاس میں عالمی نظام کو کثیر قطبی بنانے پر زور، کہا: تمام ممالک کو برابر حقوق اور مؤثر کردار ملنا چاہیے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا شنگھائی پلس اجلاس میں عالمی نظام کو کثیر قطبی بنانے پر زور، کہا: تمام ممالک کو برابر حقوق اور مؤثر کردار ملنا چاہیے۔
صدر پزشکیان نے اجلاس میں اقوام متحدہ کے کردار اور عالمی نظام میں شنگھائی پلس ممالک کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور اقتصادی، سیاسی اور ٹیکنالوجی کی طاقت کا توازن بھی بدل رہا ہے۔ ایسے حالات میں زیادہ سے زیادہ ممالک عالمی فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی نظام میں تبدیلی کا حل ایک طاقت کے غلبے کو دوسری طاقت کے غلبے سے تبدیل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق کثیر قطبی دنیا کو منصفانہ عالمی نظام میں تبدیل کرنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون، ریاستوں کی برابری اور قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔

ایرانی صدر نے اقوام متحدہ کو عالمی نظام کے لیے ایک اہم ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے نئے عالمی حقائق کی بہتر نمائندگی کرنے کے قابل بنایا جانا چاہیے تاکہ عالمی امن و سلامتی کے تحفظ، جنگوں کی روک تھام اور تنازعات کے پرامن حل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکے۔

پزشکیان نے غزہ، لبنان اور ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں پر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے ردعمل کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی جارحیت، نسل کشی، جنگی جرائم، دہشت گردی اور غیر قانونی پابندیوں کے خلاف عالمی اداروں کا مؤثر کردار ضروری ہے۔

انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ جوہری تنصیبات، تعلیمی و طبی مراکز اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا عالمی نظام کے لیے سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران جنگ کا آغاز کرنے والا نہیں تھا بلکہ اس نے اپنا دفاع کیا، تاہم تہران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو بنیادی راستہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے حسنِ نیت، وعدوں کی پاسداری اور طاقت کے استعمال سے گریز ضروری ہے۔

پزشکیان نے کہا کہ شنگھائی پلس ممالک اپنی سیاسی، اقتصادی، آبادیاتی اور جغرافیائی صلاحیتوں کے ذریعے ایسے کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جس کی بنیاد تعاون، خودمختاری میں مساوات اور اقوام متحدہ کے منشور کے احترام پر ہو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha