اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تہران کے پراسیکیوٹر علی صالحی نے بتایا کہ رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار افراد کی شہادت سے متعلق دہشت گردی کے مقدمے میں ابتدائی تحقیقات مکمل کرنے اور ملکی و بین الاقوامی شواہد و دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد فردِ جرم عائد کردی گئی ہے اور مقدمہ فیصلے کے لیے عدالت بھیج دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں جرم کے تمام ذمہ داروں، منصوبہ سازوں اور ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ عائد کیے گئے اہم الزامات میں دہشت گردانہ کارروائی کے ذریعے فساد فی الارض کا ارتکاب بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں رہبرِ انقلاب اسلامی اور ان کے خاندان کے چار افراد شہید ہوئے۔
صالحی کے مطابق فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ ترین سیاسی اور مذہبی منصب کو نشانہ بنا کر ملکی نظامِ حکمرانی کو نقصان پہنچانے اور ریاستی پالیسیوں پر طاقت کے ذریعے اثر انداز ہونے جیسے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے بقول ایسے اقدامات کے مرتکبین، منصوبہ سازوں اور حکم دینے والوں پر ملکی قوانین کے ساتھ ساتھ دہشت گردی سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے تحت بھی مجرمانہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
تہران کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ فردِ جرم کے ایک حصے میں رہبرِ شہید کی بیٹی، بہو، داماد اور 14 ماہ کے نواسے کی شہادت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حملے کا قانونی جائزہ لیتے ہوئے صرف کارروائی کے اعلان کردہ ہدف کو مدنظر نہیں رکھا جاسکتا اور خواتین، بچوں اور دیگر شہریوں کی اموات کو محض ’’جانی نقصان‘‘ قرار دے کر دہشت گردانہ کارروائی کے دائرے سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔
صالحی نے مزید کہا کہ فردِ جرم میں ملکی قوانین کے علاوہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں، بالخصوص شہریوں کے تحفظ سے متعلق قوانین اور شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی ممانعت سے متعلق قواعد کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ ملک کے اندر ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی کے علاوہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر حملے کے منصوبہ سازوں، حکم دینے والوں اور مرتکبین کی مجرمانہ ذمہ داری کے تعین کے لیے قانونی دستاویز کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
تہران کے پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ میناب کے شجرہ طیبہ اسکول کے طلبہ کی شہادت سے متعلق دہشت گردی کے مقدمے میں بھی ابتدائی تحقیقات اور ملکی و بین الاقوامی شواہد کا جائزہ مکمل کرنے کے بعد فردِ جرم عائد کردی گئی ہے اور مقدمہ عدالتی کارروائی اور فیصلے کے لیے عدالت بھیج دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں بھی جرم کے تمام ذمہ داروں اور ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
آپ کا تبصرہ