بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ تاریخی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ پوری تاریخ میں مسلمانوں کی ناکامی میں سے نمایاں کردار ان کے باہمی اختلافات نے ادا کیا ہے۔ اگر مسلمان تمام معاملات میں دینی تعلیمات کے مطابق عمل کرتے، تو یقیناً آج وہ علوم و فنون کے تمام جدید شعبوں میں ایک پیشرو امت واحدہ ہوتے اور دنیا میں اعلیٰ ترین تہذیب کے مالک ہوتے۔
جس چیز نے مسلمانوں کو پسماندگی سے دوچار کیا ہے، اور غیروں کو اسلامی ممالک پر مسلط کیا ہے، وہ عالم اسلام کے اندر تفرقہ اور انتشار ہے۔
اسی بنیاد پر انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد، ـ جب کہ اسلامی تہذیب کی تعمیر انقلاب کے مشن اور اس کے مستقبل کے اہداف میں شامل تھی، ـ وحدت مسلمین ایک ناگزیر ضرورت اور اختلافات پر غلبہ کے لئے بنیادی شرط، کے طور پر انقلاب اسلامی کے رہنماؤں خصوصاً رہبر کبیر انقلاب حضرت امام خمینی (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی توجہ کا مرکز ٹہری۔
ایک لفظ میں کہا جا سکتا ہے کہ عالم اسلام میں اختلافات پر غلبے کی غرض سے وحدت کے اصول پر توجہ کا ارتکاز، درحقیقت دشمنوں کو نہتا کرنے کے سوا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ دشمنوں کا مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا سب سے بڑا ہتھیار اور اوزار مسلمانوں کے درمیان یہی اختلاف اور تفرقہ ہے۔
لہٰذا عالم اسلام میں جو کوئی بھی اسلامی فرقوں اور مذاہب کے درمیان اختلافات کی آگ بھڑکاتا ہے، اس کا یہ عمل درحقیقت کینہ پرور دشمنوں کو مسلح کرنے اور طاقتور بنانے کے مترادف ہے تاکہ وہ امت مسلمہ کو نقصان پہنچائیں اور مسلمانوں پر غلبہ پائیں۔
اس کے برعکس، جو کوئی بھی تزویراتی سطح پر، یا آپریشنل اور ٹیکٹیکل سطح پر، مسلمانوں کے درمیان وحدت و یکجہتی کو مضبوط کرنے کے لئے کوئی اقدام کرتا ہے، اس کا عمل لا محالہ دشمنوں کو نہتا اور غیرمسلح کرنے اور اسلامی محاذ کو مضبوط بنانے کے مترادف ہے۔
امام کبیر وحدت کو اللہ کے لشکروں میں اور تفرقہ کو شیطان کے لشکروں میں شمار کرتے تھے اور اسی بنیاد پر انھوں نے "وحدتِ کلمہ" کو انقلاب اسلامی کی کامیابی کا راز قرار دیا اور ہمیشہ سب کو وحدت برقرار رکھنے کی تلقین فرمائی۔
امامِ شہیدِ امت حضرت آیت الله سید علی خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) عالم اسلام میں شیعہ اور سنی کے درمیان وحدت کو اسلامی تہذیب کی تعمیر کے بنیادی لوازم میں شمار کرتے تھے اور ہمیشہ امت اسلام کے درمیان وحدت پر تاکید فرماتے تھے۔
مذکورہ بالا امور کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایران کے عوام کے مختلف طبقات کے درمیان وحدت کا تحفظ اور مضبوطی، انقلاب اسلامی کے آرمانوں کو آگے بڑھانے، قومی اہداف کے حصول، اور مفادات، سلامتی اور قومی عزت کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی ترین امور میں سے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: بریگیڈیئر جنرل ید اللہ جوانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ