27 اگست 2026 - 16:47
نیویارک ٹائمز: ٹرمپ کا معاشی دباؤ ایران کو جھکا نہیں سکے گا، جنگ مزید بھڑکنے کا خطرہ

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر ٹرمپ انتظامیہ کا بڑھتا ہوا معاشی دباؤ تہران کو امریکی مطالبات کے سامنے جھکنے پر مجبور کرنے کے بجائے خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی پالیسی کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ تہران اس دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ممکن ہے کہ اس کے جواب میں اس دباؤ کی قیمت خلیج فارس کے خطے تک منتقل کرنے کی کوشش کرے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی معاشی مشکلات جتنی گہری ہوں گی، امریکی دباؤ کے جواب میں تہران کی جانب سے فوجی محاذ پر کشیدگی بڑھانے کا امکان بھی اتنا ہی زیادہ ہو سکتا ہے۔

مرکز برائے بین الاقوامی پالیسی کے ایران امور کے ماہر سینا طوسی کے مطابق اصل خطرہ یہ ہے کہ جس اقدام کو امریکی حکومت ’’معاشی ڈی ڈے‘‘ قرار دے رہی ہے، وہ جنگ کے متبادل کے بجائے دوبارہ فوجی کشیدگی کو ہوا دینے کا سبب بن جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر واشنگٹن مزید ممالک پر ایران کے باقی ماندہ معاشی راستے بند کرنے کے لیے دباؤ بڑھاتا ہے تو تہران کے لیے بھی ان ممالک کو ایران کو تنہا کرنے کی امریکی کوششوں میں شرکت کی قیمت دکھانے کی ترغیب بڑھ سکتی ہے۔

ٹرمپ کا ’’معاشی ڈی ڈے‘‘

نیویارک ٹائمز کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشمکش بڑی حد تک معاشی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کے مقابلے میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اسی سلسلے میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کے روز ایران کی معیشت کو متاثر کرنے والے نئے اقدامات کا اعلان کیا، تاہم ان کے نفاذ کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اس مہم کی شدت ظاہر کرنے کے لیے فوجی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے اسے ’’معاشی ڈی ڈے‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس مہم کی کامیابی کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ واشنگٹن ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں، خصوصاً ترکی، روس اور چین کو اپنے ساتھ ملانے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔

ایران نے امریکی معاشی اقدامات کو اس جنگ کا ایک اور مرحلہ قرار دیا ہے جو ایرانی حکام کے مطابق فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوئی۔ سپاہ پاسداران نے معاشی جنگ کو موجودہ محاذ آرائی کا ’’اہم میدان‘‘ قرار دیا ہے۔

ایرانی وزیر اقتصادیات علی مدنی زادہ نے بھی امریکی اقدامات کے اعلان کے بعد کہا کہ تہران کے پاس ان دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ذرائع موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے نئی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے طویل عرصے سے تیاری کر رکھی ہے اور وہ ان پابندیوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت نے ایسے دباؤ سے نمٹنے کے لیے دو سالہ منصوبہ بھی تیار کر رکھا ہے۔

ایران پر دباؤ؛ خلیج تک پہنچنے کا خدشہ

نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ معاشی دباؤ میں اضافے کے ساتھ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے کے ممالک ایران کے خلاف امریکی مہم کا حصہ بنے تو انہیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

ایرانی اعلیٰ سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ اگر خلیج فارس کے ممالک ایران کے خلاف امریکی کوششوں میں شامل ہوئے تو خطے سے تیل کی برآمد بھی متاثر ہو سکتی ہے اور ایسے ممالک کو دشمن سمجھا جائے گا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی دباؤ بڑھنے کی صورت میں تہران محاذ آرائی کے اثرات ایران کی سرحدوں سے باہر تک لے جانے کی کوشش کر سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے۔

کیا معاشی دباؤ ایران کو جھکا سکتا ہے؟

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاشی دباؤ بنیادی طور پر اسی پالیسی کا تسلسل ہے جس کا سامنا ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آیا ہے اور تہران کو اس سے نمٹنے کا طویل تجربہ حاصل ہے۔

سینا طوسی کے مطابق اگر واشنگٹن ایران کے تمام باقی ماندہ معاشی راستے بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے تہران کے لیے امریکی پالیسی کی قیمت بڑھانے کی ترغیب مزید پیدا ہو سکتی ہے۔

نیویارک ٹائمز نے یہ بھی خبردار کیا کہ پابندیوں میں اضافہ ضروری نہیں کہ اس کا سب سے بڑا اثر ایرانی قیادت پر پڑے؛ اس کے نتیجے میں عام شہری زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی پالیسی میں ایک بنیادی تضاد موجود ہے: واشنگٹن معاشی دباؤ کے ذریعے ایران کو پیچھے ہٹانا اور فوجی تصادم سے بچنا چاہتا ہے، لیکن یہی دباؤ تہران کو اس نتیجے تک پہنچا سکتا ہے کہ اس کے پاس کھونے کے لیے بہت کم رہ گیا ہے۔

ایسی صورتحال میں ایران کے امریکی مطالبات کے سامنے جھکنے کے بجائے واشنگٹن اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے لیے محاذ آرائی کی لاگت بڑھانے کی کوشش کرنے کا امکان موجود ہے، جس سے معاشی بحران مزید وسیع علاقائی کشیدگی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے نتیجہ اخذ کیا کہ ایران کی معیشت کو کمزور کرنے کے باوجود امریکی معاشی دباؤ اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ تہران واشنگٹن کے مطالبات تسلیم کر لے گا؛ بالخصوص ایسے وقت میں جب ایران کے پاس اب بھی اہم تجارتی شراکت دار موجود ہیں اور وہ کئی دہائیوں سے پابندیوں سے نمٹنے کا تجربہ رکھتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha