اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،روسی وزارت خارجہ نے آرمینیا کے حکام کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ روس نے کہا ہے کہ ماسکو میں ممکنہ نئی فوجی بھرتی سے متعلق قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں اور ایسے بیانات مغربی پروپیگنڈا مشین کو خوش کرنے کی کوشش ہیں۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے آرمینیا کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری آلن سیمونیان کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آرمینیا روسی شہریوں کی نئی تعداد کو پناہ دینے کے لیے تیار ہے جو یوکرین جنگ میں محاذ پر بھیجے جانے سے بچنا چاہتے ہیں۔
زاخارووا نے کہا کہ آرمینیائی عہدیدار کے اس طرح کے بیانات روسی شہریوں کو غیر قانونی اقدامات کی طرف مائل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سیمونیان نے فروری 2026 میں روس کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا تھا، تاہم موجودہ بیانات ان کے سابقہ مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے۔
روسی ترجمان نے کہا کہ روس میں ممکنہ نئی فوجی بھرتی سے متعلق افواہیں پہلے ہی ماسکو کی جانب سے مسترد کی جاچکی ہیں۔ ان کے مطابق یوکرین کی حکومت اور اس کے مغربی حامیوں کی جانب سے ایسی قیاس آرائیاں پھیلائی جارہی ہیں۔
کریملن نے بھی نئی فوجی بھرتی کی افواہیں مسترد کردیں
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی چند روز قبل روس میں نئی فوجی بھرتی شروع ہونے سے متعلق انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی خبروں کو جعلی قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق ایسی اطلاعات کا مقصد روس میں بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
روس کی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دمتری میدویدیف نے بھی واضح کیا تھا کہ روس میں نئی فوجی بھرتی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔ ان کے مطابق معاہدے کے تحت فوج میں شمولیت اختیار کرنے والے رضاکاروں کی تعداد روس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
زاخارووا کا پاشینیان کو جواب
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے آرمینیائی وزیراعظم نکول پاشینیان کے روس اور اجتماعی سلامتی کے معاہدے کی تنظیم (CSTO) پر تنقید کا بھی جواب دیا۔
زاخارووا نے پاشینیان سے کہا کہ وہ اپنے اقدامات اور پالیسیوں کی ذمہ داری دوسروں پر عائد کرنے کے بجائے خود قبول کریں۔
پاشینیان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 2022 میں آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے دوران روس اور CSTO نے آرمینیا کے ساتھ اپنی سکیورٹی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، جس کے باعث ماسکو کو اب آرمینیا کا اسٹریٹجک شراکت دار سمجھنا مشکل ہے۔
زاخارووا نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 2022 کے واقعات کے دوران روس نے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے دونوں فریقوں سے مسلسل رابطے کیے تھے، جبکہ CSTO نے بھی ایک خصوصی مشن آرمینیا بھیجا تھا۔
روسی سفارت کار نے پاشینیان سے مطالبہ کیا کہ وہ ماضی کے واقعات کے بارے میں ’’کم از کم ایک بار حقیقت‘‘ بیان کریں اور موجودہ صورتحال کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے سے گریز کریں۔
آپ کا تبصرہ