بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی ویب سائٹ "اینٹی وار Antiwar" پر "ٹریپا پارسی" کا نیا مضمون حالیہ پیشرفتوں میں ایک کم دکھائی دینے والی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے: "وہ ممالک جو ضروری نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہوں، خاموشی سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کی مزاحمت پر خوش ہیں۔ اس طرز عمل کی وجہ ان ممالک کی اس فکرمندی میں تلاش کی جانی چاہئے کہ امریکہ فوجی طاقت کے سہارے حکومتوں کو ہتھیار ڈالنے یا سیاسی تبدیلی پر مجبور کرے، اور یہ نمونہ اور رویہ پوری دنیا میں پھیل جائے۔
آبنائے ہرمز اور ٹرمپ کی جنگجویانہ پالیسی کی قیمت
ٹرمپ کی جنگ کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہے۔ خلیج فارس میں عدم تحفظ اور آبنائے ہرمز کی بندش براہ راست امریکی اور عالمی معیشت پر اثر انداز ہوئی ہے اور بہت سے ممالک اس صورت حال سے متاثر ہوئے ہیں۔
تاہم، بہت سے ممالک کی نظر میں، امریکہ کی طرف سے جنگ، مداخلت اور نظام کی تبدیلی کی پالیسی کا معمول بننا، آبنائے ہرمز کی بندش اور اس سے تیل اور تیل کی مصنوعات کی برآمدات رک جانے سے بھی بڑا خطرہ ہے۔ وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ اگر امریکہ اس بحران سے کوئی قابلِ ذکر قیمت ادا کئے بغیر عہدہ برآ ہؤا تو اس کو دوسرے ممالک میں مزید مہم جوئی کا زیادہ حوصلہ ملے گا۔
اسی لئے ایران کی مزاحمت بعض ممالک کے لئے محض میدان جنگ میں فتح نہیں ہے؛ بلکہ واشنگٹن کے فوجی فیصلوں کی لاگت بڑھانے کا ایک عنصر ہے اور وہ بھی یہی چاہتے ہیں۔
دنیا بین الاقوامی تعلقات میں توازن کی متلاشی
جو کچھ ابھر کر سامنے آ رہا ہے وہ ضروری نہیں کہ امریکہ کے خلاف کوئی اتحاد ہو۔ بہت سے ممالک کے اب بھی واشنگٹن کے ساتھ قریبی اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی تعلقات ہیں، لیکن ان کے ہاں کا اصل مسئلہ بھی امریکی طاقت کو محدود کرنا اور بین الاقوامی تعلقات میں توازن قائم کرنا ہے۔
امریکہ کے اتحادی بھی جانتے ہیں کہ واشنگٹن کے قریب ہونے کا مطلب ہمیشہ ان کے خلاف امریکی مخالفانہ فیصلوں سے محفوظ رہنا نہیں ہے۔ ایسے حالات میں، ایسی طاقتوں کا ابھر آنا جو امریکی دباؤ کے سامنے مزاحمت کر سکیں اور اسے روک سکیں، دوسرے ممالک کے لئے سانس لینے کی وسیع تر فضا پیدا کرتا ہے۔
نتیجہ:
امریکہ کے خلاف اسلامی جمہوریہ ایران کی مزاحمت، بین الاقوامی نظام کے لئے ایک اہم پیغام دے رہی ہے: 'امریکی طاقت مطلق اور ناقابلِ شکست' نہیں ہے۔
اسی وجہ سے، بہت سے ممالک، اگرچہ تہران کے اتحادی نہیں ہیں، ایران کی کامیابی کو توجہ کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور ایک بڑی طاقت کی مرضی مسلط کرنے کی لاگت میں اضافے پر خوش ہیں۔
بالآخر، آج دنیا کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ نہ امریکہ کے ساتھ جنگ ہے اور نہ اس کے سامنے ہتھیار ڈالنا، بلکہ بین الاقوامی تعلقات میں توازن کی بحالی ہے؛ اور ایران نے اپنی مزاحمت کے ذریعے اس توازن کی تشکیل میں مؤثر فریقوں میں سے ایک بننے کا مقام حاصل کر لیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر قبس زعفرانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ