بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ کسی خود مختار ملک پر اس کی جائز پالیسیاں تبدیل کرانے کے لئے معاشی دباؤ ڈالنا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ کوئی ملک غیر ملکی اداروں کو کسی تیسرے ملک سے قانونی تجارت ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسی ثانوی پابندیوں کی بین الاقوامی قانون میں کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے، یہ اقوامِ متحدہ چارٹر کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماقت کی انتہا کرتے ہوئے ـ ایران میں موجودہ قانونی اور منتخب صدر کو نظر انداز کرتے ہوئے ـ ہرزہ سرائی کی ہے کہ ایران میں کوئی بھی صدر بننا نہیں چاہتا جو میرے لئے ایک مسئلہ ہے!
جنوبی کیرولائنا میں سینیٹر ڈارلین گراہم کی حمایت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے وہمیات کا سلسلہ جاری رکھا اور کہا کہ ایران کے پاس اب بحریہ، فضائیہ، ریڈار، فنی آلات اور دفاعی ساز و سامان کی تیاری کی صلاحیت نہیں رہی۔ لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ اگر ایران کے پاس بحریہ، فضائیہ، ریڈار اور فنی آلات نہیں ہیں تو اس ملک نے نے خلیج فارس اور مغربی ایشیا میں اس کے دانت کیونکر کَھٹّے کر دیئے اور اس کے درجنوں طیارے اور سینکڑوں ڈرون کیونکر تباہ کر دیئے!؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ