اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فتحی خازم نے نوجوانی ہی میں فلسطینی قومی جدوجہد میں حصہ لینا شروع کیا اور فلسطینی اتھارٹی کے دور میں سکیورٹی فورسز میں بھی خدمات انجام دیں۔
فتح تحریک کے رام اللہ میں ترجمان اور انقلابی کونسل کے رکن عبدالفتاح دولہ کے مطابق، فتحی خازم سیاسی اور قومی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عوام سے گہرا تعلق رکھنے والی سماجی شخصیت بھی تھے اور شہداء کے خاندانوں کی مدد کرتے تھے۔ بعد ازاں اپنے بیٹے رعد کی شہادت کے بعد انہوں نے خود بھی شہداء کے خاندان کا یہ دکھ برداشت کیا۔
ان کی زندگی میں اہم موڑ 8 اپریل 2022 کو آیا، جب ان کے بیٹے رعد خازم تل ابیب میں ایک کارروائی کے بعد شہید ہوگئے۔ بیٹے کی شہادت کے بعد شدید صدمے کے باوجود فتحی خازم نے صبر، ایمان اور فلسطینی کاز سے وابستگی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر ان کا یہ جملہ ’’وہ ہمارے پیش رو ہیں اور ہم بھی ان سے جا ملیں گے‘‘ شہادت اور شہداء کے راستے سے متعلق ان کے نظریے کی عکاسی کرتا تھا۔
رعد کی شہادت کے بعد اسرائیلی حکومت نے فتحی خازم کے خلاف دباؤ اور تعاقب مزید بڑھا دیا اور انہیں خود کو اسرائیلی فورسز کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور فلسطین، قدس، مسجد الاقصیٰ اور فلسطینیوں کے حقِ واپسی کے مؤقف پر قائم رہے۔
وہ عرب اور مسلم اقوام کے اجتماعی شعور میں مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے پر بھی زور دیتے تھے اور ان کا مؤقف تھا کہ داخلی بحرانوں اور مشکلات کے باعث فلسطین کے مسئلے کو پسِ پشت نہیں ڈالنا چاہیے۔
عبدالفتاح دولہ نے فتحی خازم کو محض ایک شہید کے والد یا مزاحمت کار کے بجائے اپنی سرزمین اور قومی کاز سے وفادار فلسطینی کی علامت قرار دیا۔ ان کے مطابق فتحی خازم نے زندگی کے آخری مہینوں میں نوجوانوں کو فلسطینی پرچم بلند کرنے، اپنے ایمان اور سرزمین سے وابستگی برقرار رکھنے کی تلقین کی اور اسرائیلی قبضے کے سامنے جھکنے کو مسترد کیا۔
اب بیٹے کے بعد فتحی خازم کی شہادت نے ’’ابو رعد‘‘ کی شناخت کو ایک شہید کے والد سے بڑھا کر فلسطینی عوام کی استقامت کی علامت بنا دیا ہے، جسے ان کے قریبی حلقے آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال قرار دے رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ