10 اکتوبر 2026 - 14:11
ٹرمپ کی غلطی نے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کو کمزور کر دیا، CAP کا تجزیہ

سینٹر فار امریکن پروگریس (CAP) کے ماہرین نے ایک تجزیاتی نوٹ میں امریکہ کی فوجی میدان میں شکست کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے خاندان اور قریبی لوگوں کو امیر بنانے کے لئے امریکہ کے اندر اقتصادی پالیسیوں میں ہیراپھیری کرکے ایران کے خلاف 'اقتصادی جنگ' کو پہلے ہی سے بے اثر اور بے معنی بنا دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سینٹر فار امریکن پروگریس (CAP)، جو امریکہ کا ایک اہم اقتصادی تھنک ٹینک ہے، کا ماننا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کے میدان میں شکست کھائی ہے اور ٹرمپ کی اقتصادی ترجیحات ـ یعنی امریکہ کی اندرونی پالیسیوں سے سیاسی اثرات ختم کرنا اور مالی شفافیت کم کرنا اور محض اپنے اہل خانہ اور قریبی امیر لوگوں کو فائدہ پہنچانے سے عبارت ہیں ـ درحقیقت اسی 'اقتصادی جنگ مہم' کو بھی کمزور کر رہی ہیں جو ٹرمپ کی حکومت نے ایران کے خلاف بہت شور شرابے کے ساتھ شروع کی تھی۔

ٹرمپ کی غلطی نے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کو کمزور کر دیا، CAP کا تجزیہ

یہ ماہرین بتاتے ہیں کہ ٹرمپ کی حکومت کی پالیسیوں نے رئیل اسٹیٹ، کریپٹو کرنسی اور مالیاتی منڈیوں جیسے شعبوں میں یہ صورتحال پیدا کر دی ہے کہ ایران کے خلاف اقتصادی مہم اعلان اور عمل سے پہلے ہی بے معنی، کھوکھلی اور بے اثر ہو چکی ہے؛ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی اندرونی اقتصادی پالیسی کی ترجیحات اور اس کی خارجہ پالیسی واضح طور پر متضاد اور ناقابل فہم ہیں؛ اور ایرانی اس ٹرمپی پالیسی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

مضمون کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:

- امریکی تھنک ٹینک CAP نے اپنے ایک تجزیے میں اعتراف کیا ہے کہ ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں نے ایران کے خلاف امریکی اقتصادی مہم کو پہلے ہی بے اثر بنا دیا ہے۔

- رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے 2026 میں ایران کے خلاف اقتصادی مہم شروع کی تاکہ فوجی ناکامی کی تلافی کی جا سکے، لیکن یہ مہم کامیاب نہیں ہو گی کیونکہ ایران نے پابندیوں سے بچنے کے لئے تیل کی خفیہ فروخت، کریپٹو کرنسی، حوالہ اور خودمختار کمپنیوں اور ریفائنریوں کے ساتھ لین دین، جیسے ذرائع کو بروئے کار لاتا ہے۔

- اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ نے خود ـ اپنے اہل خانہ اور دوستوں اور قریبی وفادار حلقوں کے مفادات کی خاطر ـ امریکہ کے اندرونی مالی ضوابط کمزور کر دیئے ہیں، جن کی مدد سے پابندیوں کو مؤثر بنایا جا سکتا تھا۔ ضوابط میں کمی کی ٹرمپی پالیسی صرف اس کے خاندان اور قریبی دوستوں کو فائدہ پہنچاتی ہے، جس سے ایران کے خلاف اقتصادی مہم عملاً بے معنی ہو چکی ہے۔

مختصراً، ٹرمپ کی اندرونی اقتصادی پالیسیوں اور ایران کے خلاف خارجہ پالیسی میں واضح تضادات ہے، جس کی وجہ سے ایران کے خلاف اقتصادی مہم ناکارہ ہو رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: رضا حسینی

تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha