20 اگست 2026 - 15:53
صہیونی ماہرین کی وارننگ: اسرائیل تباہ کن تزویراتی صورتحال کی جانب بڑھ رہا ہے

دو صہیونی تجزیہ کاروں نے ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی، خطے میں ترکیہ کے بڑھتے اثر و رسوخ اور بدلتے علاقائی اتحادوں کا جائزہ لیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صرف فوجی طاقت پر انحصار اور متبادل سیاسی حکمتِ عملی نہ ہونے کے باعث اسرائیل مستقبل میں ایک تباہ کن تزویراتی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی اخبار معاریو نے لاس اینجلس میں اسرائیل کے سابق قونصل یقی دایان اور صہیونی سکیورٹی ادارے کے سابق اعلیٰ عہدیدار اور ایران کے جوہری پروگرام کے امور کے ماہر آفنیر فیلان کے بیانات پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی ہے۔

یقی دایان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس وقت ایران پر شدید اقتصادی دباؤ بڑھانے کو ترجیح دے رہا ہے اور وسط مدتی انتخابات سے قبل براہِ راست فوجی تصادم میں داخل ہونے کا خواہاں نہیں۔

تاہم ان کے بقول اگر یہ صورتحال کئی ماہ تک جاری رہی تو کشیدگی میں اضافے اور فوجی محاذ آرائی کا امکان بدستور موجود رہے گا۔

دایان نے ایران پر اقتصادی دباؤ میں متحدہ عرب امارات کی شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے چین کے ذریعے ایرانی تیل کی برآمدات کو بھی ایک اہم تزویراتی مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا امریکا تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے بیجنگ کے خلاف بھی اپنے اقتصادی ذرائع استعمال کرنے پر آمادہ ہوگا یا نہیں۔

دوسری جانب آفنیر فیلان نے ایران پر جاری اقتصادی دباؤ کے حوالے سے خبردار کیا کہ ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچنے کے باوجود ضروری نہیں کہ اس کے نتیجے میں سیاسی نظام منہدم ہو جائے یا تہران مذاکرات میں بڑے پیمانے پر رعایتیں دینے پر آمادہ ہو۔

گفتگو کے ایک اور حصے میں خطے میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا جائزہ لیا گیا۔ یقی دایان نے شام، غزہ، مغربی کنارے اور بیت المقدس میں ترکیہ کی بڑھتی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسے اسرائیل کے لیے ایک تزویراتی چیلنج قرار دیا۔

انہوں نے شام میں اسرائیلی اقدامات پر ڈونلڈ ٹرمپ کے نسبتاً کم ردعمل پر بھی حیرت کا اظہار کیا اور خطے میں ترکیہ سے متعلق امریکی پالیسی میں امریکی نمائندے ٹام بارک کے کردار کا ذکر کیا۔

آفنیر فیلان نے اسرائیلی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک بار پھر ایسے راستے پر گامزن ہے جس کا انجام تزویراتی شکست ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ پہل کرنے کے بجائے زیادہ تر دفاعی پوزیشن میں ہے اور کسی سیاسی متبادل کے بغیر فوجی طاقت پر انحصار کر رہا ہے۔

انہوں نے خطے میں نئے اتحادوں اور باہمی تعاون کے ابھرتے ہوئے نظام کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل امریکا، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ ایک وسیع اتحاد تشکیل دینے میں ناکام رہا تو وہ دوبارہ تباہ کن تزویراتی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha