17 اگست 2026 - 17:30
طالبان کے سربراہ کا اقتدار بچانے پر زور؛ ملا ہبت اللہ نے مکمل اطاعت کا مطالبہ کردیا

طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ آخوندزادہ نے افغانستان میں اپنی حکومت کے استحکام کو ’’مکمل اطاعت‘‘ سے مشروط کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قیادت سے اختلاف اور حکم عدولی کی صورت میں موجودہ امن ختم ہوسکتا ہے اور ملک میں متوازی حکومتیں وجود میں آسکتی ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ آخوندزادہ نے کابل پر طالبان کے دوبارہ قبضے کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر قندھار میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت اور ملک میں امن کے تحفظ کے لیے امیر کی مکمل اطاعت ضروری ہے۔ ان کی تقریر کی مکمل آڈیو ایک روز بعد جاری کی گئی۔

ملا ہبت اللہ نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امیر کی اطاعت کی جائے، حکم عدولی اور من مانی سے گریز کیا جائے، کیونکہ اگر لوگ اطاعت چھوڑ دیں تو ملک کا موجودہ امن ختم ہوسکتا ہے اور متوازی حکومتیں وجود میں آسکتی ہیں۔

طالبان سربراہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت میں کسی نے ان کے احکامات کی مخالفت نہیں کی اور وزرا و اعلیٰ حکام کے عہدوں میں تبدیلیاں بھی بغیر کسی اعتراض کے عمل میں لائی گئی ہیں۔

تاہم ملا ہبت اللہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان کے اندرونی اختلافات کی اطلاعات مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں بدخشان میں ایک ناراض طالبان کمانڈر اور جنوبی علاقوں سے آنے والے طالبان جنگجوؤں کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

اس کے علاوہ طالبان کے بعض اہم رہنما بھی ملا ہبت اللہ کی پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی پر اختلافات کے باعث مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ طالبان کے اہم رہنما شیر عباس استانکزی بھی ماضی میں کھلے عام اختلافات کے باعث ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

افغان میڈیا نے ملا ہبت اللہ کی تقریر کی بنیاد پر رپورٹ کیا ہے کہ طالبان سربراہ اطاعت کو حکومت کے استحکام، موجودہ امن کے تسلسل اور ملک میں انتشار کی روک تھام کی بنیادی ضمانت سمجھتے ہیں۔

ملا ہبت اللہ کا اطاعت پر بار بار زور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے بعض صوبوں میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha