اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اور اسرائیلی ذرائع اور تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شدید سیاسی دباؤ، تھکن اور مایوسی کا شکار ہیں۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگ اور ایران کے ساتھ مذاکرات ٹرمپ کی توقعات کے مطابق تیزی سے آگے نہیں بڑھ سکے۔
اسرائیلی چینل 12 کے واشنگٹن میں نمائندے باراک راوید نے باخبر امریکی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں ٹرمپ کے قریبی مشیر یہ سمجھتے تھے کہ امریکی صدر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حمایت کریں گے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ایران، غزہ اور لبنان سے متعلق پالیسیوں پر دونوں رہنماؤں کے مفادات میں اختلافات بڑھتے گئے۔
رپورٹ کے مطابق دو اعلیٰ امریکی حکام نے بتایا کہ ٹرمپ ذاتی طور پر نیتن یاہو کو پسند کرتے ہیں، تاہم ان کی پالیسیوں اور فیصلوں سے مایوس ہیں۔ ٹرمپ نے مبینہ طور پر نیتن یاہو کو ’’اپنا بدترین دشمن‘‘ بھی قرار دیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی ایران کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے مذاکرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذاکرات کی سست رفتاری سے بے زار ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ایک موقع پر کہا کہ اگر مذاکرات ختم بھی ہو جائیں تو انہیں اس کی زیادہ پروا نہیں، حالانکہ تقریباً اسی عرصے میں انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ مذاکرات تیزی سے جاری ہیں۔ امریکی میڈیا نے ان متضاد بیانات کو ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ابتدا میں توقع ظاہر کی تھی کہ ایران کے خلاف جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، لیکن تنازع طویل ہوتا گیا اور کئی ماہ تک جاری رہا۔ ایران نے امریکی مطالبات کو قبول کرنے کے بجائے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے مذاکرات کے مختلف مراحل میں سخت موقف اختیار کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے طویل ہونے سے اس کے اثرات امریکی عوام تک بھی پہنچے ہیں، خصوصاً ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے حکومت کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ دوسری جانب آئندہ انتخابات کے تناظر میں بعض ریپبلکن رہنماؤں کو عوامی حمایت میں ممکنہ کمی کے خدشات کا سامنا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے لیے سب سے بڑا سیاسی مسئلہ یہ بن گیا ہے کہ وہ ایران کے سامنے واضح پسپائی دکھائے بغیر جنگ کا خاتمہ کیسے کریں۔ ان کے بقول یہ صورتحال امریکی صدر کے لیے ایک اہم سیاسی معمہ بن چکی ہے۔
تجزیوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی ایران پالیسی میں مستقل حکمت عملی کے بجائے فوجی دھمکیوں، زیادہ سے زیادہ دباؤ اور مذاکرات کے درمیان بار بار تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔
آپ کا تبصرہ