بین الاقوامی تجزیہ گروپ: مائیکل یانگ، کارنیگی فاؤنڈیشن میں "دیوان" (Diwan) میگزين کے ایڈیٹر مائیکل ینگ (Michael Young) کا ماننا ہے کہ جس وقت امریکہ ایران کے ساتھ اپنے تنازع میں الجھن اور ناکامی کا شکار ہؤا ہے اور ـ "وہم پیدا کرنے کا استاد" ـ ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی رائے عامہ اور دیگر لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کی ناکام فوجی کارروائی درحقیقت اپنے اندر حتمی فتح چھپائے ہوئے ہے، اس کے باوجود "اچھی خبر" یہ ہے کہ یہ تمام پیش رفت مشرق وسطیٰ میں "امریکی ساختہ سلامتی" سے فاصلہ بڑھانے کی طرف بڑھنے کے عمل کو تیزتر کر رہی ہے۔
چوتھی اور آخری قسط:
ینگ کا دعویٰ ہے کہ خطے کے ممالک ایسے فلم میں دوسرے درجے کا اداکار بننے میں دلچسپی نہیں رکھتے جائیں جس کا فلم نامہ امریکہ اور اسرائیل نے لکھا ہے؛ وہ اپنی سلامتی بھی اسرائیل کے سپرد نہیں کرنا چاہتے۔
ینگ کے مطابق یہی وہ تیسری ٹوٹ پھوٹ ہے جو درحقیقت "بالادست [امریکی] عالمی ترتیب کی ٹوٹ پھوٹ" ہے؛ یعنی سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اس غالب تصور کی ٹوٹ پھوٹ کہ خطے میں مطلوبہ نتائج کو لازمی طور پر اس فریم ورک سے گذرنا پڑے گا جو امریکہ مسلط کرتا ہے؛ ایسا فریم ورک جس کا حتمی مقصد امریکہ کی طاقت کا تحفظ [اور اسرائیل کو قائم و دائم رکھنا] ہے۔
ایران کے ہاتھوں اسرائیل کے خواب چکناچور؛ اور ڈوبتا ہؤا امریکی صدر
مائیکل ینگ بالآخر نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ وقت گذرنے کے ساتھ یہ واضح ہو تا جا رہا ہے کہ مغربی ایشیا کا خطہ امریکہ پر انحصار کے اس مرحلے سے گذر چکا ہے جس میں ایک پائیدار علاقائی ترتیب کی ضمانت دی جاتی ہو، اور جو تمام ممالک کے توازن اور سلامتی کو یقینی بنا سکے۔
وہ طنزیہ انداز میں دعویٰ کرتے ہیں کہ اس صورتحال کے لئے نیتن یاہو کا "شکریہ" ادا کیا جانا چاہئے۔ کیونکہ اس نے امریکیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایران کے ساتھ بظاہر انقلابی جنگ میں داخل ہوں اور ٹرمپ، جو اسرائیلی مطالبات کو قبول کرنے کے لئے زیادہ 'آمادہ' تھا اور جس کے لئے اپنے ملک کے مفادات کی بھی کوئی اہمیت نہیں تھی، اس پتھریلے راستے پر گامزن ہؤا اور خود کو براہ راست دیوار سے سے دے مارا۔
ینگ واضح کرتے ہیں کہ اس صورتحال کا نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیل کی علاقائی برتری مستحکم کرنے کے لئے امریکی مداخلت استعمال کرنے کا نیتن یاہو کا خواب ایران کے ہاتھوں چکنا چور ہو گیا اور یہ رسوائی جاری رہے گی؛ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ٹرمپ نہ صرف نیتن یاہو کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر نہیں کر سکا ہے، بلکہ اب اپنے بچاؤ کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ لہٰذا خطے کے ممالک ـ جو دیکھ رہے ہیں کہ ٹرمپ اس عظیم بھنور میں تیر نہیں سکتا بلکہ ڈوب رہا ہے، ـ اپنے آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا واقعی وہ پھر بھی چاہیں گے کہ اسے ڈوبنے سے بچا دیں؟ [کیا پھر بھی ٹرمپ اور اس کے امریکہ پر ـ جو اپنے بچاؤ سے عاجز ہے ـ اعتماد کرنا چاہیں گے؟]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ