اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے ایران کے خلاف جنگ کو امریکہ کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ ابتدا ہی سے ناقابلِ فتح تھی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خود پسندی نے امریکہ کو ایک سنگین بحران سے دوچار کر دیا۔
مرفی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ اس قدر تباہ کن ثابت ہوئی ہے کہ اس کی شدت کو بیان کرنے میں مبالغہ بھی کم محسوس ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہ جنگ شروع ہی سے ایسے نتائج کی حامل تھی جنہیں امریکہ اپنے حق میں تبدیل نہیں کر سکتا تھا۔
امریکی سینیٹر نے موجودہ صورتحال کو عراق جنگ کے بعد امریکہ کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی تباہی قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کی پالیسیوں کو اس کا بنیادی سبب قرار دیا۔
مرفی اس سے قبل بھی ایران کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو مزید نقصان سے بچنے کے لیے ایسا معاہدہ بھی قبول کرنا پڑ سکتا ہے جو واشنگٹن کے لیے مکمل طور پر مثالی نہ ہو۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جنگ جتنی طویل ہوگی، امریکہ کی پوزیشن اتنی ہی کمزور جبکہ ایران کی پوزیشن مضبوط ہوتی جائے گی۔
مرفی کے مطابق جنگ کا تسلسل امریکی عوام کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ کرے گا، کیونکہ توانائی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا براہِ راست بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔
سینیٹر نے زور دیا کہ جنگ کو مزید طول دینے کے بجائے کسی سمجھوتے کی جانب بڑھنا امریکہ کے مفاد میں ہوگا، تاکہ واشنگٹن کو مزید سیاسی، اقتصادی اور تزویراتی نقصان سے بچایا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ