15 اگست 2026 - 17:01
ایران کا امریکہ سے مذاکرات کی بحالی پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں، آبنائے ہرمز پر دوٹوک مؤقف

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ مفاہمت کی خلاف ورزی کے بعد دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی، جبکہ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ’’ایرانی تھی، ایرانی ہے اور ایرانی رہے گی‘‘۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

عراقچی نے کہا کہ تقریباً دو ماہ قبل ہونے والی مفاہمت کی امریکہ نے خلاف ورزی کی اور اس کے بعد دوبارہ کشیدگی شروع ہوگئی۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں اس مفاہمت کے تحت کوئی باقاعدہ جنگ بندی برقرار نہیں رہی جس کی مدت میں توسیع کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان اور قطر اب بھی ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں، تاہم ان رابطوں کو امریکہ کے ساتھ فعال مذاکرات کا آغاز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

عراقچی نے ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق جاری فنی مذاکرات کا بھی ذکر کیا اور واضح کیا کہ یہ مذاکرات امریکہ کے ساتھ جنگ بندی یا سیاسی مذاکرات سے مکمل طور پر الگ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ بات چیت کا مقصد آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے نئے بحری راستوں کا تعین کرنا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے ماہرین مسلح افواج کے تعاون سے کام کر رہے ہیں اور امید ہے کہ یہ مذاکرات جلد کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے۔

دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ایرانی تھی، ایرانی ہے اور ایرانی رہے گی۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ صرف ایران کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان جون کے وسط میں ہونے والی فریم ورک مفاہمت کا مقصد 60 روزہ مذاکراتی عمل کے ذریعے کسی حتمی سمجھوتے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی جانب پیش رفت کرنا تھا، تاہم اس دوران مختلف اوقات میں دونوں جانب سے حملے اور کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha