18 اگست 2026 - 23:08
ایران کمزور ہے، یہ تصور مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے:عراقچی

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی کا دور، جنگ سے پہلے کے دور سے نمایاں طور پر مختلف ہوگا اور ایران کو ایک کمزور ملک سمجھنے کا تصور مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی کا دور، جنگ سے پہلے کے دور سے نمایاں طور پر مختلف ہوگا اور ایران کو ایک کمزور ملک سمجھنے کا تصور مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق عراقچی نے کہا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘‘ کا مطالبہ کیا تھا، تاہم بعد میں حکومت کی تبدیلی، ملک کو تقسیم کرنے اور اندرونی بدامنی سمیت مختلف منصوبے بھی ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے کیے گئے متعدد اقدامات مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے اور ایران نے اپنی مزاحمت جاری رکھی۔

عراقچی کے مطابق جنگ کے دوران ایرانی حکام اور سفارتی عملے نے بھی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد اعلیٰ عہدیداروں کی شہادت کے باوجود ایرانی حکام، سفارت کاروں اور مقامی ملازمین نے اپنے فرائض سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صدر مسعود پزشکیان نے مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے کا راستہ تلاش کرنے کی حمایت کی۔ ان کے مطابق تقریباً تین ماہ کی سفارتی کوششوں کے بعد دونوں جانب سے مفاہمت کی یادداشت تک رسائی ہوئی۔

عراقچی نے مزید بتایا کہ مذاکراتی ٹیم کی سربراہی کے لیے محمدباقر قالیباف کا انتخاب صدر پزشکیان کی تجویز پر کیا گیا تھا اور صدر نے اس فیصلے کو باضابطہ طور پر درج کرنے پر بھی زور دیا تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha