اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی سے اپنے حالیہ خفیہ انخلا سے متعلق میڈیا رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ جس طیارے میں وہ سفر کر رہے تھے، اسے ایک بڑے خطرے کا سامنا تھا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران کی جانب سے ممکنہ قاتلانہ حملے کا خدشہ بھی موجود تھا۔
ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ترکی میں طیارہ تبدیل کرنے کے معاملے میں انہوں نے امریکی خفیہ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کیا۔ ان کے بقول جس طیارے میں وہ موجود تھے، اس کے نشانہ بنائے جانے کا خطرہ زیادہ تھا، اسی لیے سفر کے دوران حفاظتی انتظامات کو غیر معمولی طور پر خفیہ رکھا گیا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر ’’مکمل کنٹرول‘‘ رکھتا ہے اور کہا کہ انہیں ایران پر اعتماد نہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی طاقت کے ذریعے خطے پر غلبہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ٹرمپ نے ممکنہ قاتلانہ حملے کے خطرے سے متعلق سوال کے جواب میں بظاہر بے فکری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی چیز کی فکر نہیں، تاہم ان کے خفیہ سفری انتظامات اور سکیورٹی اقدامات اس کے برعکس صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ ترکی سے واپسی کے دوران ٹرمپ نے معمول کے صدارتی طیارے کے بجائے انتہائی خفیہ انداز میں ایک فوجی طیارے کے ذریعے امریکہ کا سفر کیا۔ اس کارروائی کا مقصد مبینہ طور پر ان کے پرواز کے راستے کو چھپانا تھا، کیونکہ انٹیلی جنس ذرائع نے ایران کی جانب سے ایک ’’قابلِ اعتبار خطرے‘‘ کی نشاندہی کی تھی۔
اس خفیہ آپریشن میں ٹرمپ کو ابتدا میں پرانے ’’ایئر فورس ون‘‘ پر سوار ہوتے ہوئے دکھایا گیا تاکہ میڈیا اور دیگر افراد یہی سمجھیں کہ وہ اسی طیارے سے امریکہ روانہ ہوں گے۔ تاہم چند ہی منٹ بعد انہیں ایک خصوصی کیٹرنگ گاڑی کے ذریعے خاموشی سے طیارے سے نکالا گیا اور ایک چھوٹے فوجی طیارے C-32A میں منتقل کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ اپنا شناختی سگنل بند کرکے فوجی کوڈ نام Reach 18 کے تحت برطانیہ کی جانب روانہ ہوا۔ مبینہ طور پر امریکی وزیر دفاع پیت ہیگست بھی اسی طیارے میں سوار ہوئے تاکہ ٹرمپ کی خفیہ منتقلی کا راز برقرار رہے۔
ٹرمپ نے ماضی میں بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایران کی مبینہ قاتلانہ کارروائیوں کی فہرست میں سرفہرست ہیں۔ دوسری جانب ان کی گولف کلب میں فضائی دفاعی نظام کی تعیناتی کی تصاویر بھی سامنے آ چکی ہیں، جس سے امریکی صدر کی سکیورٹی سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ