اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیل موجودہ مذاکرات میں صرف جنگ بندی کے استحکام یا اپنے فوجی انخلا کے طریقہ کار پر بات نہیں کر رہا بلکہ لبنان میں نئی سکیورٹی اور سیاسی شرائط منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بنت جبیل، الخیام اور زوطر شرقی کو اپنے انخلا کے اگلے مرحلے میں شامل کرنے کی مخالفت کی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل مزید علاقوں سے انخلا کو اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 سے بھی آگے بڑھ کر اضافی سکیورٹی شرائط کی تکمیل سے مشروط کرنا چاہتا ہے۔
اسی دوران اطلاعات ہیں کہ لبنان کے سیاسی وفد کے سربراہ سیمون کرم نے دریائے لیتانی کے جنوب میں واقع پورے علاقے کے تقریباً 40 فیصد گھروں کی لبنانی فوج کے ذریعے تلاشی لینے کے اصولی طور پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ تاہم لبنانی فوج کے ارکان نے واضح کیا ہے کہ فوج کی کارروائیوں کے دوران ملکی قوانین کی پابندی ضروری ہوگی۔
دوسری جانب لبنانی فوج نے تجویز دی کہ اسرائیلی فوج زیر قبضہ علاقوں سے نکل جائے اور لبنانی فوج اس بات کی ضمانت دے کہ ان علاقوں میں موجود کسی بھی مسلح موجودگی یا اسلحے کو ختم کردیا جائے گا۔ تاہم امریکی فریق نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے لبنانی فریق کو بتایا ہے کہ موجودہ حالات میں اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی اس کے پاس گنجائش نہیں ہے، اس لیے جنگ بندی میں توسیع کرکے کشیدگی میں اضافے سے گریز کیا جائے اور اسرائیل میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے نتائج کا انتظار کیا جائے۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری
دوسری جانب زمینی صورت حال مذاکرات کے دعووں سے مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ جنوبی لبنان کے المنصوری علاقے میں سڑکیں کھولنے اور ملبہ ہٹانے کے دوران لبنانی فوج کے ایک بلڈوزر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ پانی کی تنصیبات پر حملے اور جنوبی علاقوں میں بمباری و تباہی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک طرف لبنانی فوج سے جنوبی علاقوں میں اپنی موجودگی بڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اسی فوج کو اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل: حزب اللہ کو طاقت کے ذریعے غیر مسلح کرنا آسان نہیں
رپورٹ میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے تجزیے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق اسرائیلی فوجی طاقت تنہا حزب اللہ کے اسلحے کے مسئلے کو حل نہیں کرسکتی۔
اخبار کے مطابق اس معاملے کا حل لبنان کے اندر سیاسی اتفاقِ رائے، حکومت اور لبنانی فوج کے کردار کو مضبوط بنانے اور شام کی سرحد سے حزب اللہ تک رسد کے راستوں کو محدود کرنے سے جڑا ہوا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے خبردار کیا ہے کہ طاقت کے ذریعے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوشش لبنان کے داخلی استحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ حزب اللہ صرف ایک عسکری تنظیم نہیں بلکہ لبنان میں وسیع سیاسی اور سماجی اثر و رسوخ بھی رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی، اسرائیلی اور لبنانی حکام بھی حزب اللہ کے اسلحے کے مسئلے کا فوری اور جامع حل تلاش کرنے کو انتہائی پیچیدہ قرار دے رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ