اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان اور اسرائیل کے درمیان روم میں مذاکرات کا دور ختم ہونے کے بعد طارق ترشیشی نے ایک گفتگو میں کہا کہ فی الحال ان مذاکرات سے کسی عملی نتیجے کی بات نہیں کی جا سکتی اور اسرائیل اس عمل کو وقت حاصل کرنے اور سیاسی چالیں چلنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے جنوبی لبنان کے دیہات اور قصبوں کی مسلسل تباہی، مقبوضہ علاقوں میں فوجی اڈوں کے قیام اور فضائی و توپ خانے کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تل ابیب اس وقت انخلا کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ترشیشی نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ اسرائیل کنیست کے انتخابات سے قبل یا بنیامین نیتن یاہو کی انتخابی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے اپنی جارحیت میں اضافہ کر سکتا ہے۔
لبنانی حکومت کی مذاکراتی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیروت نے امریکہ کی جانب سے دی جانے والی یقین دہانیوں اور وعدوں پر انحصار کیا، لیکن اب تک اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق جن علاقوں کو ’’آزمائشی علاقوں‘‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وہ بھی حقیقی کامیابی نہیں ہیں، کیونکہ زوطر الغربیہ، فرون اور صریفا جیسے علاقے بنیادی طور پر اسرائیلی قبضے میں نہیں تھے۔
ترشیشی نے کہا کہ لبنان دراصل صرف اسرائیل سے مذاکرات نہیں کر رہا بلکہ اس عمل میں امریکہ بھی فریق ہے، جو ان کے بقول مکمل طور پر تل ابیب کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جارحیت جاری رکھنے کا مقصد جنوبی لبنان میں آبادی سے خالی علاقہ بنانے کے ساتھ ساتھ اس علاقے کے بارے میں طویل المدتی منصوبوں کے لیے راہ ہموار کرنا اور مزاحمت کو نقصان پہنچانا بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان پر قبضہ برقرار رہنے کا مطلب مزاحمت کا آپشن بھی برقرار رہنا ہے۔ ان کے مطابق مزاحمت اور لبنانی معاشرے کا ایک بڑا حصہ اسرائیلی قبضے کو قبول نہیں کرے گا اور یہ صورتحال ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتی۔ ترشیشی نے خطے کے بحرانوں کے حل کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ لبنان بھی ایسی مفاہمت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل خطے میں ایک مشترکہ منصوبے پر عمل پیرا ہیں اور لبنان کی صورتحال کو ان دونوں کے درمیان اور مزاحمتی محور کے ساتھ جاری وسیع تر محاذ آرائی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔
الجمهوریہ کے مدیرِ تحریر نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں نام نہاد ’’اسرائیلِ عظیم‘‘ کے منصوبے اور بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے پیش کیے گئے نقشے کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ خطے میں جاری تنازع صرف لبنان اور اسرائیل کے درمیان محدود کشمکش نہیں بلکہ دو مختلف علاقائی منصوبوں کے درمیان مقابلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمتی محور امریکہ اور اسرائیل کے منصوبوں، بالخصوص ’’نئے مشرقِ وسطیٰ‘‘ اور ’’اسرائیلِ عظیم‘‘ کے منصوبوں کے مقابل کھڑا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کو کمزور یا ختم کرنے کی کوششوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ترشیشی نے آخر میں اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ کشمکش بالآخر دونوں منصوبوں میں سے ایک کی شکست پر ختم ہوگی اور ان کے مطابق کامیابی مزاحمتی محور کی ہوگی۔
آپ کا تبصرہ