اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،رائٹرز اور ایپسوس کے مشترکہ تازہ سروے کے مطابق، امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ مشرقِ وسطیٰ میں مزید عدم استحکام کا باعث بنے گی، جبکہ اس کے اقتصادی اور سیاسی اثرات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
سروے، جو ایران کے خلاف جنگ کے پانچویں مہینے کے دوران چھ روز تک جاری رہا، کے مطابق 50 فیصد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ آئندہ ایک سال میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں مشرقِ وسطیٰ کو مزید غیر مستحکم کریں گی۔ اس کے برعکس صرف 17 فیصد افراد کا خیال ہے کہ اس جنگ سے خطے میں استحکام بڑھے گا، جبکہ 16 فیصد کے مطابق صورتِ حال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی، اور 17 فیصد نے کوئی رائے نہیں دی۔
سروے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام جنگ کے معاشی اثرات سے بھی پریشان ہیں۔ 58 فیصد شرکاء نے خدشہ ظاہر کیا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جبکہ صرف 15 فیصد کا خیال ہے کہ ایندھن سستا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں خلل نے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
نتائج کے مطابق جنگ کی عوامی حمایت میں بھی کمی آئی ہے، اور اب صرف 35 فیصد امریکی ایران کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2024 کے اواخر سے پہلی مرتبہ امریکی ووٹرز نے جنگ، انسدادِ دہشت گردی اور معیشت کے معاملات میں ڈیموکریٹک پارٹی کو معمولی فرق سے ریپبلکن پارٹی کے مقابلے میں زیادہ اہل قرار دیا ہے۔
یہ نتائج ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے، جو کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں، سیاسی طور پر چیلنج سمجھے جا رہے ہیں۔ اگرچہ 80 فیصد ریپبلکن ووٹرز مجموعی طور پر ٹرمپ کی کارکردگی کی حمایت کرتے ہیں اور 66 فیصد ان کی ایران کے ساتھ جنگی حکمتِ عملی سے متفق ہیں، تاہم صرف 41 فیصد کا خیال ہے کہ یہ جنگ بالآخر مشرقِ وسطیٰ میں زیادہ استحکام لائے گی۔
رائٹرز کے مطابق، فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی شرکت سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ پر اب تک امریکی ٹیکس دہندگان کے 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ اس دوران 18 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ جلد ختم بھی ہو جائے، اس کے معاشی اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں، جبکہ خطے کے استحکام پر اس کے حتمی اثرات کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
آپ کا تبصرہ