اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک رپورٹ میں متعدد ماہرین اور سابق امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ خلیج فارس کے ممالک امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے سے خطے کے دیگر فریقوں کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور تہران کے خلاف واشنگٹن کی کسی نئی فوجی کارروائی کے ممکنہ نتائج پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو نائب صدر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ خلیجی عرب ممالک ایران کے بارے میں امریکہ کی فوجی حکمتِ عملی پر سنجیدہ تحفظات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، واشنگٹن کی تصادم پر مبنی پالیسی نہ صرف صورتحال میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لائے گی بلکہ خطے کے ممالک کو مزید سکیورٹی اور معاشی خطرات سے دوچار کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق، مذکورہ ماہر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو امریکہ کی فوجی حکمتِ عملی کی مؤثریت پر اعتماد نہیں، کیونکہ کشیدگی میں اضافہ ایران کی جوابی کارروائیوں اور خطے کے ممالک کے لیے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سبب بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے سابق کمانڈر کیون ڈنگن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک عموماً ایران کے خلاف کسی بھی امریکی حملے کی پہلی قیمت ادا کرتے ہیں، کیونکہ تہران ان ممالک کے بنیادی ڈھانچے اور مفادات کو نشانہ بنا کر جواب دے سکتا ہے۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے پاس میزائل حملے کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے، جس کے باعث خلیجی ممالک اپنی توانائی تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے خصوصی تشویش رکھتے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بحران کو مزید شدت اختیار کرنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور عمان اور پاکستان سمیت بعض علاقائی ممالک فریقین کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
کیون ڈنگن کے مطابق، سعودی عرب ابتدا ہی سے کشیدگی میں اضافے کا خواہاں نہیں رہا اور وہ اب بھی فوجی آپشن کے بجائے سیاسی اور سفارتی راستے کو ترجیح دیتا ہے۔
رپورٹ کے ایک اور حصے میں آکسیوس کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران ایران کے خلاف ممکنہ وسیع فوجی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے گریز کی درخواست کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی حکام ایسے کسی بھی اقدام کے ممکنہ علاقائی سلامتی کے نتائج کے بارے میں شدید تشویش رکھتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ