اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،عراقی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حشد الشعبی کے مراکز پر مبینہ امریکی۔سعودی مشترکہ حملوں کا مقصد عراق میں مزاحمتی قوتوں، خصوصاً حشد الشعبی، کی صلاحیت کو کمزور کرنا اور خطے میں امریکہ کے مفادات کو تقویت دینا ہے۔
عراقی سیاسی تجزیہ کار اور افق اسٹڈیز سینٹر کے سربراہ جمعہ العطوانی نے المیادین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراقی مزاحمتی قوتوں نے سعودی عرب پر کسی بھی حملے کی تردید کی تھی، اس کے باوجود یہ کارروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریاض امریکی حکمتِ عملی کے تحت حشد الشعبی کو نشانہ بنا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عراق پر امریکی دباؤ کی ایک بڑی وجہ محورِ مقاومت میں اس کا مؤثر کردار، ایران کے ساتھ یکجہتی اور شہید امام خامنہ ای کی تشییع میں عراقی عوام کی وسیع شرکت ہے۔
العطوانی کے مطابق سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان گہرا اسٹریٹجک تعاون موجود ہے، جبکہ حشد الشعبی اور عراقی مزاحمت امریکی منصوبوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خطے کے بعض ممالک، جن میں سعودی عرب اور شام کی موجودہ حکومت بھی شامل ہیں، عراق میں مزاحمتی مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے ایک منظم منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔
انہوں نے عراقی حکومت کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید نہیں کہ بغداد سعودی عرب کی جانب سے مبینہ حملوں کی کھل کر مذمت کرے گا، خصوصاً ایسے وقت میں جب وزیرِاعظم کے دورۂ سعودی عرب کی تیاریاں جاری ہیں۔
العطوانی نے مزید کہا کہ کربلا اور نجف میں شہید امام خامنہ ای کی عظیم الشان تشییعی تقریبات نے محورِ مقاومت میں عراق کے کلیدی کردار کو نمایاں کیا، اور ان کے بقول حالیہ حملے اسی کردار کا "انتقام" ہیں۔
دوسری جانب حشد الشعبی کے مطابق بغداد، واسط، نینویٰ، بصرہ، کرکوک، کربلا اور دیالی میں اس کے مراکز پر ہونے والے حملوں میں اب تک 20 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ فوجی تنصیبات، گاڑیوں اور دیگر سازوسامان کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ نقصانات کے حتمی اعداد و شمار جمع کرنے کا عمل ابھی جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ