جلوس میں علامہ عباس کمیلی‘ مولانا حسین مسعودی‘ مولانا مرزا یوسف حسین اور دیگر نے شرکت کی۔ ماتمی جلوس سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علمائے دین نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کو فوری پر برطرف کیا جائے ۔ انہوں نے تین روزہ یوم سوگ منانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جاں بحق ہونے والے ورثاء کی مالی معاونت کی جائے اور زخمیوں کا سرکاری خرچ پر علاج کیا جائے۔دریں اثناء شیعہ علماء کونسل سندھ کے جنرل سیکریٹری سید ناصر عباس تقوی نے سانحہ کوئٹہ کے خلاف 3 روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ کوئٹہ کے لیے اعلیٰ عدالتی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے اور عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے، شہداء و زخمیوں کو معاوضہ دیا جائے۔ وہ جمعہ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ جعفریہ الائنس پاکستان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں بسنے والے تمام طبقات یہاں امن کا قیام چاہتے ہیں اس وقت ملک میں جو بے یقینی کی صورتحال ہے اس سے ہر شخص پریشان ہے ان رہنماؤں نے کہا کہ یہاں شیعہ سنی کا کوئی جھگڑا نہیں بلکہ ایک مخصوص گروہ فتنہ اور فرقہ وار فساد کی سیاست کو فروغ دے رہا ہے جس کا مقصد ملک کو خانہ جنگی کی جانب سے دھکیلنا ہے لیکن ملت جعفریہ اور دیگر مکاتب فکر کے افراد مل کر اس ناپاک سازش کو ناکام بنا دیں گے کیونکہ اس ملک کی تعمیر و ترقی اور قیام میں ہمارے بزرگوں کی قربانیاں شامل ہیں اور اس کی بقاء کے لیے بھی ہم سب مل کر اپنا اپنا کردار ادا کریں گے کیونکہ یہ بات ہر شخص یہ خوبی جانتا ہے کہ ملکی بقاء اور سلامتی میں ہم سب کی بقاء ہے۔ادہر وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا نے سول اسپتال کوئٹہ میں خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور پولیس کو صوبے میں سیکورٹی اقدامات سخت کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے تمام مساجد امام بارگاہوں، مدارس پر اضافی سیکورٹی انتظامات کے ساتھ ساتھ تمام جید علمائے کرام، مفتیان، ذاکرین اور دیگر مذہبی قائدین کی غیرمعمولی سیکورٹی کے بھی احکامات دیدیئے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110