اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے مستعفی ہو جانے پر مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ یہ طلبہ کی جیت ہے ۔ وزیر اعظم کا یہ قدم قابل تعریف ہے ،انہیں بہت پہلے دھرمیندر پردھان کو ہٹا دینا چاہئے تھا ۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام میں اصلاحات اور شفافیت کا مطالبہ حق بجانب ہے جس پر سرکار کو فوری قدم اٹھانا چاہئے ۔
انھوں نے کہا کہ تعلیمی نظام میں اصلاحات اور شفافیت کی کمی ہے۔ بار بار پیپر کالیک ہونا طلبہ کی محنت اور مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔ ایسے عناصر کے خلاف وزیر اعظم کو سخت قانونی کارروائی کرنی چاہئے ۔
مولانا نے مزید کہا کہ طلبہ کے مطالبات جائز ہیں،سرکار کو ان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر سرکار طلبہ سے ان کے مطالبات کے بارے میں گفت و شنید کرتی تو نوبت احتجاج اور مظاہرین پر تشدد تک نہیں پہنچتی ۔ یقینا بار بار پیپر لیک ہونا اور طلبہ پر تشدد وزیر تعلیم کی ناکامی اور بوکھلاہٹ کا نتیجہ تھی،جس کے لئے ان کا مستعفی ہو جانا ہی بہتر تھا۔ مولانا نے طلبہ پر ہوئے تشدد کی بھی مذمت کی اور اس طلبہ کے جمہوری حقوق اور جائز مطالبات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کا رویہ جارحانہ تھا جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ۔
آپ کا تبصرہ