14 جولائی 2026 - 14:17
مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کی تقرری اقلیتوں کے حقوق پر حملہ ہے: مولانا کلب جواد نقوی

مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کی تقرری پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے اقلیتوں کے حقوق پر حملہ اور مسلمانوں کے شخصی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا وقف قانون اوقاف کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ وقف املاک پر قبضے کی راہ ہموار کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کی تقرری پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے اقلیتوں کے حقوق پر حملہ اور مسلمانوں کے شخصی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا وقف قانون اوقاف کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ وقف املاک پر قبضے کی راہ ہموار کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔

مولانا کلب جواد نقوی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ شروع سے ہی نئے وقف قانون کی مخالفت کرتے آئے ہیں اور اسے "سانپ کا بل" قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ حالیہ تقرریوں نے ان کے خدشات کو درست ثابت کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی ہندو ٹرسٹ میں مسلمان رکن شامل نہیں کیا جاتا تو پھر مسلم وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کی تقرری کی کوئی آئینی یا اخلاقی بنیاد نہیں بنتی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ رام مندر ٹرسٹ سمیت ملک کے ہزاروں ہندو ٹرسٹوں میں کوئی مسلمان رکن موجود نہیں ہے۔

مولانا نے کہا کہ مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کی تقرری اقلیتوں کے آئینی حقوق پر حملہ اور آئین کی روح کے منافی اقدام ہے۔ ان کے مطابق نئے وقف قانون کا مقصد اوقاف کی فلاح و بہبود نہیں بلکہ مسلمانوں کی وقف جائیدادوں پر قانونی طریقے سے قبضہ کرنا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ وقف املاک پر ناجائز قبضے کیے جا رہے ہیں، منصوبہ بندی کے تحت مندروں اور سرکاری دفاتر کی تعمیر کے ذریعے وقف زمینوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت واقعی اوقاف کے تحفظ میں سنجیدہ ہے تو تمام وقف اراضی سے ناجائز قبضے ختم کیے جائیں۔

مولانا کلب جواد نقوی نے مزید کہا کہ حکومت مساجد اور مزارات کو ناجائز قبضے کا جواز بنا کر منہدم کر رہی ہے، لیکن وقف یا سرکاری زمینوں پر قائم غیر قانونی مندروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے لکھنؤ کے حسین آباد ٹرسٹ کی زمین اور کنگ جارج میڈیکل کالج کے احاطے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں دوہرا معیار اختیار کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت کا مقصد واقعی وقف املاک کا تحفظ ہے تو سرکاری اور ٹرسٹ کی زمینوں پر قائم تمام غیر قانونی تعمیرات اور ناجائز قبضوں کے خلاف یکساں کارروائی کی جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha