اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،لبنان کی سپریم شیعہ اسلامی کونسل کے نائب سربراہ شیخ علی الخطیب نے کہا ہے کہ لبنان امریکی اور اسرائیلی وعدوں یا مبینہ پسپائی کے دعوؤں سے دھوکا نہیں کھائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنان کی سرزمین سے مکمل انخلا، بے گھر شہریوں کی واپسی، تعمیرِ نو کا آغاز اور قیدیوں کی رہائی ہی قابل قبول حل ہے۔
شیخ علی الخطیب نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان کے عوام کسی بھی ایسے اقدام کو قبول نہیں کریں گے جس میں اسرائیلی افواج کی جزوی یا نمائشی واپسی کو کامیابی کے طور پر پیش کیا جائے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات اصل مسئلے کا حل نہیں بلکہ وقت حاصل کرنے کی کوشش ہیں۔
انہوں نے حالیہ دنوں میں لبنانی صدر کے دورۂ امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں امریکی وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ واشنگٹن کی پالیسیاں ہمیشہ اسرائیل کے مفادات کے مطابق رہی ہیں۔
الخطیب نے واضح کیا کہ لبنان براہِ راست مذاکرات یا قومی مفادات پر سمجھوتے کا حامی نہیں، تاہم وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے داخلی استحکام برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا، جنوبی لبنان کی آزادی، بے گھر افراد کی واپسی، تعمیرِ نو اور قیدیوں کی رہائی کا خیر مقدم کیا جائے گا، جبکہ ملک کو داخلی کشیدگی کی طرف نہیں جانے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ لبنان اپنے عوام کے صبر، قومی مزاحمت، ملکی اداروں اور اپنے علاقائی اتحادیوں کی حمایت پر اعتماد رکھتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ایران کی مسلسل حمایت کو بھی سراہا اور کہا کہ تہران نے مشکل وقت میں ہمیشہ لبنان کا ساتھ دیا ہے۔
شیخ علی الخطیب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی جانب سے پسپائی کے اعلانات عملی حقیقت سے مختلف ہیں اور سرحدی علاقوں میں لبنانی فوج کو اب بھی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمینی حقائق اور اعلانات میں واضح فرق موجود ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا تو جنوبی لبنان کے عوام کی مشکلات اور بے دخلی کا دورانیہ مزید طویل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری تنازعات صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی اور نظریاتی نوعیت بھی رکھتے ہیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر شیخ علی الخطیب نے لبنان میں آزادیٔ اظہار کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ریاستی اداروں کو قانون کی یکساں عملداری یقینی بنانی چاہیے، جبکہ مذہبی شخصیات اور عقائد کی توہین جیسے معاملات پر بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ