اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،تائیوان کی نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر اور جیو پولیٹیکل امور کے ماہر یوآن جیو جنگ نے کہا ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو کمزور سمجھنا بڑی غلطی ہوگی، کیونکہ امریکی جنگی طیارے چاہے کتنے ہی جدید اور مہنگے کیوں نہ ہوں، زمین پر موجود ہونے کی صورت میں ایران کا ایک درست حملہ انہیں لوہے کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتا ہے۔
انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس جنگ میں کمزور فریق نہیں بلکہ ایسا ملک ہے جو طویل تنازع میں بھی طاقت کا توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ فوری جواب دے گا۔ ایران کی جانب سے ممکنہ اہداف کی ایک فہرست بھی جاری کی گئی، جس میں خلیجی خطے کے جوہری مراکز اور اہم آبی تنصیبات شامل ہیں۔ اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں خطے کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ماہر نے کہا کہ امریکہ نے اپنی فوجی موجودگی بڑھانے، اضافی فوجی دستے تعینات کرنے اور نیٹو اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے جیسے اقدامات ضرور کیے ہیں، تاہم ایران نے بھی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لاتے ہوئے دفاعی انداز سے آگے بڑھ کر زیادہ فعال اور جارحانہ طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔
ان کے بقول ایران پہلے دشمن کے ریڈار اور ابتدائی وارننگ نظام کو نشانہ بناتا ہے، پھر فضائی اڈوں، طیاروں کے شیلٹرز اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ترین جنگی طیارے بھی آخرکار زمین پر اترتے ہیں، اور اسی مرحلے پر وہ ایران کے درست میزائل حملوں کا آسان ہدف بن سکتے ہیں۔
یوآن جیو جنگ نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی کارروائیوں میں امریکی فوجی اڈوں، رہائشی مراکز اور اہم فوجی قیادت کی رہائش گاہوں کو بھی نشانہ بنایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی حکمت عملی پہلے سے زیادہ منظم اور ہدف پر مرکوز ہو چکی ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو ایران کے پاس دفاعی استحکام برقرار رکھنے اور امریکہ کے ساتھ طاقت کا توازن قائم رکھنے کی صلاحیت موجود ہے، جبکہ امریکہ کے مہنگے دفاعی نظام بھی اسے مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات سے نہیں بچا سکیں گے۔
آپ کا تبصرہ