اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے سیکیورٹی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت اور لبنان اسپیشل ملٹری کوآرڈینیشن گروپ (MCG4L) کے ساتھ رابطے کے بعد اس کی فوجی یونٹوں نے زوطر الغربیہ میں تعیناتی کا عمل شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ جون کے آخر میں واشنگٹن میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج مرحلہ وار جنوبی لبنان کے بعض علاقوں سے انخلا کرے گی، جبکہ ان علاقوں کی سیکیورٹی کی ذمہ داری لبنانی فوج سنبھالے گی۔ اسی کے ساتھ بارودی مواد کو ناکارہ بنانے اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کا کام بھی شروع کیا گیا ہے تاکہ مقامی شہری اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔
لبنانی فوج کے مطابق تعیناتی کے دوران اسرائیلی فوج نے لبنانی فوجیوں کی پوزیشنوں پر فائرنگ کی، جس سے اہلکاروں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا اور تعیناتی کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ لبنانی فوج ایک بلڈوزر کے ذریعے معاہدے میں طے شدہ حدود سے باہر داخل ہوئی تھی، تاہم لبنانی فوج نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اہلکار زوطر الشرقیہ میں داخل نہیں ہوئے تھے۔
لبنانی فوج نے زور دیا کہ کسی بھی اختلاف کو فوجی رابطہ کاری کے طے شدہ نظام اور معاہدے میں موجود رابطہ چینلز کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوجی کارروائیوں کے بجائے معاہدے کی شرائط پر عمل کرے۔
مبصرین کے مطابق زوطر الغربیہ کے علاوہ فرون اور صریفا میں بھی اس معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد ہو رہا ہے، اور اس کی کامیابی جنوبی لبنان کے دیگر علاقوں تک معاہدے کے دائرہ کار کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ کا تبصرہ