اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مرآۃ البحرین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی جانب سے خاموشی توڑ کر بحرین میں شیعہ برادری کو درپیش وجودی خطرات پر اظہارِ تشویش اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں اس طبقے کو شدید دباؤ، منظم پابندیوں اور مذہبی و سماجی شناخت کو متاثر کرنے والی پالیسیوں کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں ان اقدامات کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے انہیں محض محدودیت نہیں بلکہ فرقہ وارانہ نوعیت کی منظم کارروائیاں قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بحرین کی جمعیت الوفاق الوطنی الاسلامی نے انکشاف کیا ہے کہ جیلوں میں قید شیعہ علماء کے ساتھ غیر معمولی سخت سلوک کیا جا رہا ہے، جسے انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اقدامات انفرادی غلطیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔
رپورٹ میں بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کو زیر حراست علماء کی سلامتی کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر ان مبینہ خلاف ورزیوں کو نہ روکا گیا اور اجتماعی سزا یا تحقیر آمیز رویے جاری رہے تو اس سے داخلی کشیدگی اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ریاستوں کا استحکام عدل، قانون کی حکمرانی اور انسانی وقار کے احترام سے ممکن ہوتا ہے، نہ کہ جبر و تشدد سے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی اور قومی نوعیت کے بحرانوں کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ انصاف پر مبنی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے سے بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے۔
رپورٹ میں عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بحرین کی صورتحال کا آزادانہ جائزہ لینے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیں، جیلوں میں قید افراد کے حقوق اور وقار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی کریں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کریں۔
رپورٹ میں مسلم دنیا کی ممتاز دینی و سماجی شخصیات سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ بحرین میں زیر حراست علماء کے تحفظ، ان کی سلامتی اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کے لیے مشترکہ اور مؤثر کردار ادا کریں۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں صرف بیانات کافی نہیں بلکہ منظم اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ