20 جولائی 2026 - 17:05
یمن کی وارننگ: "بندر کے بدلے بندر" کی حکمت عملی سے سعودی معیشت مفلوج کر دیں گے

یمن کے دارالحکومت صنعاء کے سیاسی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک سعودی عرب کی قیادت میں یمن کے خلاف اتحاد میں شامل ہوگا یا یمن کے محاصرے میں شریک ہوگا، اس کے تجارتی جہازوں کو بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب سے گزرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ صنعاء کے ایک اقتصادی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ "بندر کے بدلے بندر" کی یہ حکمت عملی سعودی معیشت کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صنعاء کے سیاسی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی ملک سعودی عرب کی قیادت میں یمن کے خلاف قائم اتحاد میں شامل ہوگا یا یمن کے محاصرے میں کردار ادا کرے گا، اسے بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں اپنے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

صنعاء نے اس اقدام کو اپنے دفاع کے جائز حق کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی حکمت عملی "بندر کے بدلے بندر" سعودی عرب کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

صنعاء کے متعدد سیاسی ذرائع کے مطابق، یمن کے خلاف محاصرے یا کسی بھی سعودی قیادت والے معاندانہ اتحاد میں شامل ہونے والے ممالک کے جہازوں کو ان کی بندرگاہوں کی جانب جانے سے روکا جا سکتا ہے، اور یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے تحت یمن کے حقِ دفاع کے دائرے میں ہوگا۔

روزنامہ الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے صنعاء کے ایک باخبر اقتصادی ذریعے نے کہا کہ "بندر کے بدلے بندر" کی حکمت عملی بندرگاہ الحدیدہ سمیت یمن کی دیگر بندرگاہوں پر عائد محاصرے کو توڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، جن میں جنوبی صوبوں کی وہ بندرگاہیں بھی شامل ہیں جو ریاض کے حمایت یافتہ گروہوں کے زیرِ کنٹرول ہیں۔

ذرائع کے مطابق، اس حکمت عملی نے سعودی حکام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ ریاض بخوبی جانتا ہے کہ اگر اس پر عمل درآمد ہوا تو سعودی معیشت مکمل طور پر مفلوج ہو سکتی ہے۔

اقتصادی ذریعے نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے برسوں سے یمن کے خلاف اقتصادی جنگ اور محاصرے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، جس کے باعث لاکھوں یمنی شہری مشکلات سے دوچار ہوئے۔ تاہم اگر "بندر کے بدلے بندر" کی یہ حکمت عملی نافذ ہوئی تو ریاض چند ہفتوں سے زیادہ اس کے اثرات برداشت نہیں کر سکے گا اور اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha