اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شورائے علمائے شیعہ پاکستان کے سیکریٹری جنرل حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ شبیر حسن میثمی نے کراچی کی مسجد بقیۃ اللہ میں خطاب کرتے ہوئے رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت اور اس کے پیغام پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کی شہادت نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ حق و باطل کی دائمی کشمکش میں کامیابی کا راستہ ایمان، مزاحمت اور استقامت سے ہو کر گزرتا ہے۔
علامہ میثمی نے ایران میں رہبرِ شہید کی تشییع جنازے میں اپنی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں افراد کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ جو شخصیت اسلام، حق اور امت مسلمہ کی عزت کے لیے قیام کرتی ہے، وہ ہمیشہ عوام کے دلوں میں زندہ رہتی ہے اور احترام کے ساتھ رخصت کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں رہبرِ شہید کی زیارت اور تشییع جنازے میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، جہاں انہوں نے ایرانی عوام کی وفاداری، بصیرت اور استقامت کو قریب سے دیکھا۔ ان کے بقول خواتین، مرد، نوجوان اور بزرگ سب نے ایک آواز ہو کر رہبرِ شہید کے مشن کو جاری رکھنے اور دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
شورائے علمائے شیعہ پاکستان کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ رہبرِ شہید نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرکے ثابت کیا کہ حق کی کامیابی استقامت اور ایمان سے وابستہ ہے، جبکہ ایرانی عوام کی عظیم الشان شرکت نے قومی اتحاد، بیداری اور وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ استکباری طاقتوں کے دباؤ کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق جو قوم اللہ تعالیٰ پر توکل کرتی ہے اور اہل بیتؑ کے راستے پر چلتی ہے، وہ شہادت تو پا سکتی ہے مگر شکست کبھی نہیں کھاتی۔
علامہ میثمی نے ماہِ صفر کی آمد اور عاشورا کے پیغام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کی عزت، سربلندی اور بقا حضرت امام حسینؑ کی قربانی کی مرہونِ منت ہے، اس لیے کربلا کے پیغام کو نئی نسل تک مؤثر انداز میں منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ کو دلیل، منطق اور احترام کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے تاکہ نوجوان نسل حقیقت اور تحریف میں فرق کر سکے، جبکہ واقعۂ کربلا اور اہل بیتؑ کی مظلومیت کو علمی، مستند اور مؤثر انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔
پاکستان میں مجالس اور عزاداری کے خلاف بعض اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجالس، جلوس، سینہ زنی اور دیگر شعائر حسینی دین اسلام کا ناقابلِ جدا حصہ ہیں، لہٰذا ان پر کسی قسم کی پابندی یا رکاوٹ اہل ایمان کے لیے قابل قبول نہیں اور ایسی ہر کوشش کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔
انہوں نے حکومتِ سندھ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ عزاداری کے انعقاد میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں، اس سلسلے میں قائم مقدمات ختم کیے جائیں اور شہریوں کو مذہبی آزادی اور شعائر کی ادائیگی کے مکمل مواقع فراہم کیے جائیں۔
علامہ شبیر حسن میثمی نے امت مسلمہ کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے مسلمانوں کو باہمی احترام، ہم آہنگی اور علمی و اخلاقی مکالمے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے قرآن کریم اور اہل بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میں محبت، اخلاق، منطق اور استدلال کے ذریعے لوگوں کو حق کی دعوت دی جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دائرے میں توسیع پوری دنیا کے لیے سنگین اقتصادی نتائج کا باعث بن سکتی ہے اور متعدد ممالک کو شدید بحرانوں سے دوچار کر سکتی ہے۔
آخر میں علامہ میثمی نے مؤمنین کو اسراف سے بچنے، وسائل کے بہتر استعمال، باہمی تعاون اور ضرورت مندوں کی مدد کی تلقین کرتے ہوئے دعا، زیارت عاشورا، دعائے علقمہ اور اہل بیتؑ سے توسل کی پابندی کی نصیحت کی اور امت مسلمہ کی عزت، شہداء کے مشن کی کامیابی اور دشمنانِ اسلام کی ناکامی کے لیے دعا کرنے کی اپیل کی۔
آپ کا تبصرہ