15 جولائی 2026 - 15:38
مآخذ: ابنا
جنوبی لبنان کے عوام کا تاریخی مطالبہ، ملک کے دفاع کے لیے ایک مضبوط ریاست کا قیام

لبنان کی پارلیمان میں "وفاداری برائے مزاحمت" بلاک کے رکن حسن فضل اللہ نے حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی لبنان کے عوام کا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ ملک میں ایسی مضبوط اور ذمہ دار ریاست قائم ہو جو سرزمین، خودمختاری اور شہریوں کا مؤثر دفاع کر سکے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی پارلیمان میں "وفاداری برائے مزاحمت" بلاک کے رکن حسن فضل اللہ نے حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی لبنان کے عوام کا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ ملک میں ایسی مضبوط اور ذمہ دار ریاست قائم ہو جو سرزمین، خودمختاری اور شہریوں کا مؤثر دفاع کر سکے۔

حزب اللہ کے ایک شہید کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حسن فضل اللہ نے حالیہ حکومتی معاہدے پر اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ لبنان کے بجائے اسرائیل کے مفادات کو زیادہ تقویت دیتا ہے اور اس میں نہ تو قبضے کے خاتمے کی کوئی واضح ضمانت موجود ہے اور نہ ہی لبنان کے قومی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومتی پالیسیاں لبنان کی دفاعی صلاحیت اور مزاحمتی قوتوں کو کمزور کرنے کا باعث بن رہی ہیں، جس سے قومی مفادات متاثر ہو رہے ہیں۔

حسن فضل اللہ نے کہا کہ اگر ماضی میں لبنانی حکومتیں جنوبی علاقوں کے دفاع اور عوام کے تحفظ کی اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرتیں تو عوامی مزاحمت کے قیام کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیوں اور قبضے کو وسعت دینے کی منصوبہ بندی پہلے ہی کر رکھی تھی۔

علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ پیش رفت کے نتیجے میں اسرائیلی کارروائیاں رکیں گی، اسرائیلی افواج لبنان سے واپس جائیں گی، بے گھر شہری اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے، قیدیوں کی رہائی ممکن ہوگی اور متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوگا۔

انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ حزب اللہ متاثرہ خاندانوں کی مدد اور جنوبی لبنان کی بحالی و تعمیرِ نو کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha