13 جولائی 2026 - 16:33
لبنانی مصنف: وطن سے غداری، یہوداہ اسخریوطی اور بروٹس کی غداری سے بھی بڑھ کر ہے

لبنان کے ایک مصنف نے اپنے تازہ مضمون میں یہوداہ اسخریوطی اور بروٹس کی تاریخی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے لبنانی حکمرانوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آج لبنان میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ قومی خودمختاری، عوامی اعتماد اور ملک کے مستقبل سے غداری ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی مصنف اکرم بزی نے "یہوداہ اسخریوطی اور بروٹس؛ وطن کی گمشدگی کے دو جھوٹے گواہ" کے عنوان سے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ لبنان کے حکمرانوں پر ہونے والی تنقید صرف ان کی سیاسی کارکردگی تک محدود نہیں بلکہ ایسے اقدامات کے خلاف احتجاج ہے جن کی قیمت لبنانی عوام اپنی جانوں اور خون سے ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کے حواری یہوداہ اسخریوطی کی داستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غداری اپنے شکار کو نقصان پہنچانے سے پہلے خود غدار کی شخصیت اور وقار کو تباہ کر دیتی ہے اور تاریخ میں اس کا نام ہمیشہ بے وفائی کی علامت بن جاتا ہے۔

اکرم بزی نے بعد ازاں بروٹس کی جانب سے جولیئس سیزر کے قتل کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بھی ایسی غداری کی مثال ہے جسے عوامی مفاد کے نام پر درست ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، مگر تاریخ نے اسے عہد شکنی اور بے وفائی کی علامت کے طور پر محفوظ رکھا۔ ان کے مطابق جب سیاسی فیصلوں کو "قومی مفاد" یا "سیاسی ضرورت" جیسے نعروں کی آڑ میں پیش کیا جاتا ہے، لیکن ان کا نتیجہ ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانا اور عوامی اعتماد کو مجروح کرنا ہو، تو وہ مزید خطرناک بن جاتے ہیں۔

مصنف نے موجودہ لبنانی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکمران طبقے کا ایک حصہ بعض سیاسی پالیسیوں کے باعث قومی مفادات کے تحفظ کی اپنی بنیادی ذمہ داری سے دور ہو چکا ہے۔ ان کے بقول ادھورے وعدوں، عوامی مطالبات کو نظر انداز کرنے اور ایسے فیصلوں، جنہیں ناقدین اسرائیل کے مفاد میں قرار دیتے ہیں، نے ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کے جنوبی علاقوں میں ہونے والی پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بعض سیاسی فیصلوں کے اثرات صرف داخلی اختلافات تک محدود نہیں بلکہ قومی سلامتی، سرزمین کی خودمختاری اور سرحدی علاقوں کے عوام کے مستقبل سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق قبضے، دیہات کی تباہی اور شہریوں کی بے دخلی کے مقابل خاموشی یا غفلت کو عوام صرف سیاسی کمزوری نہیں بلکہ براہِ راست ذمہ داری تصور کرتے ہیں۔

اکرم بزی نے اپنے مضمون کے اختتام پر لکھا کہ جس طرح تاریخ نے یہوداہ اسخریوطی اور بروٹس کے نام غداری کے ساتھ وابستہ کر دیے، اسی طرح آج کے سیاست دانوں کے کردار کا بھی تاریخ فیصلہ کرے گی۔ ان کے بقول آئندہ نسلیں موجودہ حکمرانوں کو ملکی سالمیت، قومی خودمختاری کے دفاع اور عوام کے اعتماد کی پاسداری کی بنیاد پر جانچیں گی، اور کوئی بھی سیاسی مصلحت یا جواز انہیں اس ذمہ داری سے بری نہیں کر سکتا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha