اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نجف اشرف کے امام جمعہ حجت الاسلام والمسلمین سید صدرالدین قبانچی نے حسینیہ اعظم فاطمیہ نجف میں نماز جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی تشییع کے سیاسی اور سماجی اثرات کا جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ عراق اور ایران میں رہبرِ شہید سید ولی امام خامنہ ای کی تشییع ایک عالمی سیاسی واقعہ بن گئی، جس نے دنیا کے عوامی افکار میں حق کے محاذ کو کامیابی اور عالمی استکبار کو شکست سے دوچار کیا۔ ان کے بقول یہ صرف جنازہ نہیں تھا بلکہ تجدیدِ عہد، دینی و سیاسی موقف کے اظہار، اسلامی شناخت کے اعلان اور استکبار کے خلاف مستضعف اقوام کے اتحاد کا مظہر تھا۔
سید صدرالدین قبانچی نے کہا کہ اندازوں کے مطابق نجف اشرف اور کربلا میں تشییعی مراسم میں 80 لاکھ سے ایک کروڑ افراد شریک ہوئے۔ انہوں نے عراقی عوام، سکیورٹی اداروں، سرکاری اداروں، مقدس روضوں اور حوزۂ علمیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عراق نے اس موقع پر اپنی دینی شناخت اور قومی وقار کا عملی ثبوت پیش کیا اور قوم پرستی کو دین پر غالب آنے کی تمام توقعات ناکام ہو گئیں۔
عراق کے داخلی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے امام جمعہ نجف نے بدعنوانی کے خلاف جاری "فجر مہم" کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ چوری شدہ رقوم واپس کرنے کے بدلے چوروں کو عام معافی دینا درحقیقت دوبارہ بدعنوانی کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ انہوں نے عدلیہ پر زور دیا کہ وہ ہر قسم کے داخلی یا بیرونی دباؤ سے بالاتر ہو کر انصاف کے تقاضے پورے کرے۔
بین الاقوامی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ عالمی، عسکری اور داخلی سطح پر اپنی ناکامی ثابت کر چکا ہے، جبکہ ایران نے اپنی عسکری، سیاسی اور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام آج "انتقام" کا نعرہ بلند کر رہے ہیں اور قاتلانِ سید ولی کے خلاف مختلف فتوے بھی جاری کیے گئے ہیں، جس سے دنیا کے سامنے یہ واضح پیغام گیا ہے کہ "قاتل قانون اور عدالت کی گرفت سے فرار حاصل نہیں کر سکے گا۔"
اپنے دینی خطبے میں سید صدرالدین قبانچی نے امام زین العابدینؑ کی شہادت کی مناسبت سے دعائے مکارم الاخلاق کے مضامین بیان کرتے ہوئے عدل، غصے پر قابو پانے، فتنہ ختم کرنے، لوگوں میں صلح کرانے، حسن اخلاق، تواضع، حق گوئی اور نیکی کو فروغ دینے جیسی صفات کو مومنین کی بنیادی خصوصیات قرار دیا۔
انہوں نے آخر میں سامرا میں 2006ء میں حرمِ امامین عسکریینؑ کے گنبد کی تخریب کی برسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عراق کی اعلیٰ دینی مرجعیت نے عوام کو صبر و تحمل اور فرقہ وارانہ ردعمل سے اجتناب کی تلقین کی، جس کے باعث ملک ایک بڑے خونریز بحران سے محفوظ رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہی طرزِ عمل آج بھی امت کے لیے راہِ نجات ہے، جہاں عقلانیت اور جذبات میں توازن برقرار رکھا جائے۔
آپ کا تبصرہ