اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی روزنامہ ہارٹز نے صہیونی حکومت کے ٹیکس ریکارڈ کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بڑے بیٹے یائیر نیتن یاہو نے قانونی طور پر اپنا نام تبدیل کرکے "یوناتان ہون" رکھ لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سال 2026 کی ٹیکس دستاویزات نئے نام سے جمع کرائی گئی ہیں، تاہم ان میں درج شناختی نمبر اور پتہ وہی ہے جو 2024 کی ٹیکس دستاویزات میں یائیر نیتن یاہو کے اصل نام کے ساتھ درج تھا۔
ہارٹز نے لکھا ہے کہ اسرائیلی قانون کے مطابق سرکاری طور پر نام کی تبدیلی کے بعد سات سال تک اسے واپس نہیں لیا جا سکتا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ یائیر نیتن یاہو آئندہ مستقل طور پر نئے نام سے پہچانے جانا چاہتے ہیں یا اس تبدیلی کا مقصد کچھ اور ہے، کیونکہ وہ اب بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پرانا نام ہی استعمال کر رہے ہیں۔
اخبار کے مطابق 34 سالہ یائیر نیتن یاہو دائیں بازو کے سخت گیر سیاسی کارکن اور پوڈکاسٹ میزبان ہیں اور گزشتہ چند برسوں سے امریکی ریاست فلوریڈا میں مقیم ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر متنازع سرگرمیوں اور یورپ و امریکہ کی بعض انتہا پسند دائیں بازو کی شخصیات سے روابط کے باعث بھی شہرت رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کے دوسرے بیٹے، آونیر نیتن یاہو، نے بھی اس سے قبل اپنا نام سرکاری طور پر تبدیل کر لیا تھا۔ لندن میں ایک اپارٹمنٹ کی خریداری کے دوران جائیداد کے ریکارڈ میں ان کا نام "آوی سیگال" درج کیا گیا تھا۔ آونیر نے گزشتہ سال کہا تھا کہ نام کی تبدیلی سیکیورٹی وجوہات اور لندن میں تعلیم کے دوران احتیاطی اقدام کے طور پر کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، غزہ اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد عالمی رائے عامہ میں اسرائیل کے خلاف تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے کئی اسرائیلی شہری بیرونِ ملک سفر کے دوران اپنی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی یورپی شہروں میں اسرائیل کے حامیوں اور فلسطینی حقوق کے حامی مظاہرین کے درمیان مختلف واقعات کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آتی رہی ہیں۔
آپ کا تبصرہ