اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے شہید رہبرِ ایران آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تاریخی تشییع پر اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ تہران میں منعقد ہونے والی یہ تقریب ایران کی حکومت کے حق میں عوامی حمایت کے سب سے بڑے مظاہروں میں سے ایک بن کر سامنے آئی۔
اخبار کے مطابق پیر کے روز کروڑوں ایرانی شہید رہبر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تشییع میں شریک ہوئے، جسے جدید تاریخ کے عظیم ترین عوامی اجتماعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوگواروں کی غیر معمولی تعداد نے تہران کی اس تشییع کو جدید تاریخ کی سب سے بڑی آخری رسومات میں شامل کر دیا۔
فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ تشییع میں شریک افراد غم سے نڈھال تھے، بہت سے لوگ اشک بار تھے، سینہ زنی کر رہے تھے اور شہید رہبر کے جسدِ خاکی کو لے جانے والی گاڑی کے گرد جمع تھے۔ ہجوم اس قدر زیادہ تھا کہ کئی مواقع پر گاڑی کا قافلہ رش کے باعث رک گیا۔
رپورٹ کے مطابق تشییع کا راستہ 10 کلومیٹر سے زیادہ طویل تھا، جو مشرقی تہران کی دماوند اسٹریٹ سے شروع ہو کر میدان امام حسین، میدان انقلاب اور میدان آزادی تک پھیلا ہوا تھا، اور پورا راستہ سوگواروں سے بھرا ہوا تھا۔
برطانوی اخبار نے دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کی طرح اس بات کا بھی ذکر کیا کہ متعدد شرکاء سرخ پرچم اٹھائے ہوئے تھے، جنہیں خونِ شہداء کا انتقام لینے کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ میدان امام حسین میں بعض افراد نے علامتی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مجسمہ لٹکایا، جبکہ کچھ شرکاء ایسے بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر فارسی اور انگریزی میں نعرے درج تھے۔ اس دوران بعض شرکاء نے "امریکہ مردہ باد" اور "اسرائیل مردہ باد" کے نعرے بھی لگائے۔
رپورٹ میں تہران کی 60 سالہ رہائشی تہمینہ کا بھی بیان شامل کیا گیا، جس نے کہا، "میں اپنے شہید رہبر کو آخری سلام پیش کرنے آئی ہوں اور یہ بتانے آئی ہوں کہ ان کا راستہ جاری رہے گا۔ اس جنگ میں ہم نے ہزاروں شہداء کی قربانیاں دی ہیں اور ایران کو خطے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔"
فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھا کہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی قوم کے اتحاد کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ