اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد ملک میں سیاسی اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق صدر جوزف عون معاہدے کے حق میں سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری اس معاہدے کے مخالف سیاسی جماعتوں اور شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش میں ہیں۔
لبنانی اخبار الاخبار کے مطابق، صدارتی محل کی جانب سے مختلف پیشہ ور تنظیموں، مزدور یونینوں، آزاد ارکانِ پارلیمنٹ اور سیاسی و سماجی شخصیات سے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ صدارتی محل میں آ کر حکومت اور معاہدے کی حمایت کا اظہار کریں۔
رپورٹ کے مطابق، اس اقدام کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ معاہدے کو ملک میں وسیع سیاسی اور عوامی حمایت حاصل ہے۔ تاہم کئی تنظیموں اور شخصیات نے اس دعوت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سابقہ ملاقات کی درخواستوں پر توجہ نہیں دی گئی، لیکن اب انہیں حکومت کی حمایت کے لیے مدعو کیا جا رہا ہے۔
ادھر نبیہ بری مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے بڑھا رہے ہیں تاکہ معاہدے کے خلاف ایک مشترکہ سیاسی محاذ تشکیل دیا جا سکے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے جبران باسیل سے بھی ملاقات کی، جس کے بعد ان کی جماعت نے حکومت سے معاہدے کی تفصیلات پر جواب طلب کرنے کا عندیہ دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر جوزف عون نے سعودی عرب کے نمائندے یزید بن فرحان سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ دروز رہنما ولید جنبلاط سے ملاقات کر کے انہیں نبیہ بری کے سیاسی اتحاد میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کریں۔
دوسری جانب، معاہدے کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ لبنان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی ہے اور اس سے ملک کو علاقائی تنازعات سے الگ رکھتے ہوئے آزادانہ فیصلے کرنے کا موقع ملے گا۔
رپورٹ کے مطابق، معاہدے پر صرف سیاسی نہیں بلکہ قانونی اور سکیورٹی سطح پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن میں لبنانی فوج کا کردار، سرحدی علاقوں کا انتظام اور اسرائیلی افواج کے ممکنہ انخلا جیسے معاملات شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنانی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزیوں اور سرحدی کارروائیوں کے جاری رہنے کو بھی معاہدے پر عمل درآمد میں بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، معاہدے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اس پر مکمل عمل درآمد مشکل دکھائی دیتا ہے۔
آپ کا تبصرہ