بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کتاب "نظام کی تبدیلی: ڈونلڈ ٹرمپ کی بادشاہانہ صدارت اندر سے" (Regime Change: Inside the Imperial Presidency of Donald Trump) ایک انکشافی کام ہے جو میگی ہیبرمین (Maggie Haberman) اور جوناتھن سوان (Jonathan Swan)، نیویارک ٹائمز کے نامور صحافیوں کی 1000 سے زائد انٹرویوز اور تین سالہ روداد نگاری کا نتیجہ ہے۔ یہ کتاب جو ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے صرف 17 ماہ بعد شائع ہوئی اور اسی پہلے دن ایک لاکھ 50 ہزار نسخے فروخت کرنے کا غیرمعمولی ریکارڈ قائم کیا، وائٹ ہاؤس میں اقتدار کے ڈھانچے کی تبدیلی اور اس کی ایک "شہنشاہی صدارت (Imperial Presidency)" اور لامحدودیت اور مطلق العنانیت کی طرف حرکت کی چونکا دینے والی اور بےپردہ تصویر پیش کرتی ہے۔
حصۂ سوئم:
کمرے میں موجود تمام افراد جانتے تھے کہ ایران کے پاس اپنے میزائل اور ڈرون کے ذخائر کو بہت کم لاگت اور بہت تیزی سے بڑھانے کی صلاحیت ہے، امریکہ کے مقابلے میں، جو اس سے بہت رفتار سے اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے بہت مہنگے انٹرسیپٹر بنا کر فراہم کر سکتا ہے۔ [لیکن ان کی زبان دو جنگجوؤں نے بند کرائی تھی اور مخالفت کی صورت میں ان میں بہت سوں کی نوکری جا سکتی تھی؛ یوں وہ سب تابع مہمل بن کر رہ گئے]۔
نیتن یاہو کی پریزنٹیشنز - اور ٹرمپ کے مثبت ردعمل - نے امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی کے لئے ایک فوری ذمہ داری پیدا کر دی۔ تجزیہ کاروں نے رات بھر اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی کہ جو کچھ اسرائیلی ٹیم نے صدر کو بتایا تھا وہ عملی طور پر کتنا ممکن ہے۔
امریکی انٹیلیجنس تجزیئے کے نتائج اگلے دن، 12 فروری کو، ایک دوسرے اجلاس میں ـ جو صرف امریکی عہدیداروں کے لئے سچویشن روم میں منعقد ہؤا تھا ـ پیش کئے گئے۔ ٹرمپ کے آنے سے پہلے، دو سینئر انٹیلیجنس عہدیداروں نے صدر کے اندرونی حلقے کو آگاہ کیا۔
انٹیلیجنس عہدیداروں کو امریکی فوجی صلاحیتوں میں گہری مہارت تھی اور وہ ایران کے نظام اور اس کے اداکاروں کو قریب سے جانتے تھے۔ انہوں نے نیتن یاہو کی پریزنٹیشن کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔
اول: آیت اللہ [امام خامنہ ای رضوان اللہ علیہ] کا قتل۔
دوئم: طاقت استعمال کرنے اور اپنے پڑوسیوں کو خطرہ میں ڈالنے کی ایرانی صلاحیت کو مفلوج کرنا۔ (ایران کی فوجی طاقت کا مبینہ خاتمہ)
سوئم: ایران کے اندر عوامی بغاوت؛ اور
چہارم: رجیم چینج، جس میں ملک کی حکمرانی کے لئے 'ایک سیکولر رہنما' کا تقرر شامل ہے۔
امریکی عہدیداروں نے اندازہ لگایا کہ پہلے دو اہداف امریکی انٹیلیجنس اور فوجی طاقت کے ذریعے قابل حصول ہیں۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ نیتن یاہو کی اسکیم کا تیسرا اور چوتھا حصہ، ـ جس میں ایران پر کردوں کے زمینی حملے کا امکان شامل تھا، ـ حقیقت سے دور کا تعلق بھی نہیں رکھتے۔
ٹرمپ اجلاس میں شامل ہؤا تو سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف (John Lee Ratcliffe) نے اس کو اپنے جائزے سے آگاہ کیا۔
سی آئی اے ڈائریکٹر نے اسرائیلی وزیراعظم کے رجیم چینج کے منظرناموں کو بیان کرنے کے لئے ایک لفظ استعمال کیا: "مضحکہ خیز۔"
سی آئی اے کے جائزے میں، سب سے زیادہ ممکن اور ساتھ ہی خطرناک منظرنامہ یہ تھا کہ پاسداران انقلاب میں انتہاپسند عناصر صورت حال کا کنٹرول سنبھال لیں اور حکمران دینی علماء کی پوزيشن کو کمزور کر دیں۔
عوامی بغاوت اور اندر سے حکومت کا تختہ الٹنے کا منظرنامہ، کتاب کے مطابق، سب سے کم ممکنہ آپشن تھا جو سی آئی اے کے تجزیہ کاروں نے پیش کیا تھا۔
اس وقت، روبیو نے اس کی بات کاٹ دی اور کہا: "یعنی دوسرے لفظوں میں [منصوبہ] بکواس ہے۔"
دوسرے کئی افراد، بشمول وینس، ـ جو اسی وقت آذربائیجان سے واپس آیا تھا، ـ بحث میں شامل ہوئے اور اس نے بھی رجیم چینج کے امکان پر شدید شککا اظہار کیا۔
صدر پھر جنرل کین کی طرف متوجہ ہؤا اور کہا: "جنرل! آپ کی کیا رائے ہے؟"
جنرل کین نے جواب دیا: "جناب، یہ، میرے تجربے کے مطابق، اسرائیلیوں کے لئے معیاری آپریشنل طریقہ کار ہے۔ وہ بہت زیادہ تشہیر کرتے ہیں اور ان کے منصوبے ہمیشہ اچھی طرح سے مرتب نہیں ہؤا کرتے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں ہماری ضرورت ہے اور اسی لئے وہ سخت تشہیر کرتے ہیں۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیشکش: سید محمد حسین راجی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ