29 جون 2026 - 17:12
حزب اللہ: مزاحمتی ہتھیار لبنان کے دفاعی نظام کا لازمی حصہ ہیں

لبنانی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے رکن رامی ابو حمدان نے صہیونی حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ، جو اسرائیل کو فوجی آزادی دے یا مزاحمت کے ہتھیاروں کو نشانہ بنائے، لبنان کی خودمختاری اور قومی مفادات کے لیے خطرہ ہوگا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک "وفاداری بہ مقاومت" کے رکن رامی ابو حمدان نے وادی بقاع کے علاقے عین کفرزبد میں شہید بلال شکر کی ساتویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران لبنانی ریاست کی جانب سے اختیار کیے گئے بعض مؤقف ایسے ہیں جن میں ایسے امتیازات دیے جا رہے ہیں جو ملک کی قومی خودمختاری کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ جو صہیونی حکومت کو لبنان میں فوجی کارروائی کی آزادی فراہم کرے یا مزاحمت کے ہتھیاروں کو ہدف بنائے، وہ لبنان کی سلامتی، خودمختاری اور قومی حقوق کے لیے سنگین خطرہ ہوگا۔

رامی ابو حمدان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کے ہتھیار لبنان کے دفاعی نظام کا بنیادی حصہ ہیں اور انہیں غیر مؤثر بنانے یا چھیننے کی ہر کوشش مسترد کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک صہیونی حکومت لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے مکمل انخلا نہیں کرتی، اس وقت تک مزاحمت کا راستہ جاری رہے گا۔

انہوں نے حالیہ پیش رفت میں جمہوریہ اسلامی ایران کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران نے مذاکراتی عمل کے ذریعے لبنان کے مفادات کے حق میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ نے داخلی امن اور استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ لبنان کی خودمختاری اور عوام کے وقار پر کسی قسم کی جارحیت یا تجاوز ہرگز قابل قبول نہیں ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha