29 جون 2026 - 17:20
واشنگٹن: تہران کے ساتھ عملی مذاکرات طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری ہیں

امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان دوطرفہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق عملی مذاکرات طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری ہیں اور حالیہ کشیدگی کے باوجود کسی بھی مجوزہ مذاکراتی اجلاس کو منسوخ نہیں کیا گیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جرمن خبر رساں ادارے نے امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان دوطرفہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق عملی مذاکرات طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق جاری ہیں اور آئندہ چند روز میں دونوں فریقوں کے درمیان مزید مذاکرات متوقع ہیں۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران چند حملوں کے واقعات کے باوجود کسی بھی طے شدہ مذاکراتی اجلاس کو منسوخ نہیں کیا گیا، جبکہ جھیل لوسرن میں ہونے والے اجلاس کے بعد کشیدگی میں کمی کے لیے قائم رابطہ چینلز بدستور فعال اور مؤثر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران نے عارضی طور پر ایک دوسرے کے خلاف حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے اور اسی دوران مذاکراتی عمل بھی جاری رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ، طے شدہ فریم ورک معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت بھی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔

دریں اثنا امریکی ویب سائٹ آکسیوس نے خبر دی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا نیا دور منگل کے روز دوحہ میں منعقد ہونے کا امکان ہے، تاہم اس ملاقات کے وقت اور مقام کی تاحال سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ یہ مذاکرات ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے تسلسل میں ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل سوئٹزرلینڈ میں ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد مذاکرات کا مرکز آبنائے ہرمز اور متعلقہ معاہدوں پر عمل درآمد بن گیا ہے۔

مزید برآں، لوسرن میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں دونوں فریقوں نے پابندیوں، ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور لبنان میں جنگ بندی سے متعلق امور پر مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دینے پر اتفاق کیا تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha