29 جون 2026 - 17:23
لبنان کے دانشوروں کا انتباہ: صہیونی حکومت ملک میں داخلی انتشار پھیلانا چاہتی ہے

لبنان کے مختلف صوبوں کے دانشوروں کے مشاورتی اجلاس نے خبردار کیا ہے کہ صہیونی حکومت لبنان میں داخلی اختلافات کو ہوا دے کر حکومت اور حزب اللہ کے درمیان کسی بھی مفاہمت کو ناکام بنانا چاہتی ہے، جبکہ ملکی استحکام اور قومی اتحاد کے لیے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا گیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے مختلف صوبوں کے دانشوروں کے مشاورتی اجلاس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صہیونی حکومت حالیہ حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لبنان میں داخلی انتشار پیدا کرنے اور لبنانی حکومت و حزب اللہ کے درمیان ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے متعلق بنیادی اصولوں پر کسی بھی مفاہمت کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تل ابیب حالیہ معاہدے کو ایک بہانہ بنا کر سیکیورٹی زون میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا اور فوجی کارروائیوں کی آزادی محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔

اجلاس نے ملک کے اندر کشیدگی میں اضافے سے بچنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لبنان کے صدر جوزف عون اور حزب اللہ کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

بیان میں نبیہ بری، ولید جنبلاط اور دیگر سیاسی، دینی اور عوامی شخصیات کے کردار کو قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور ملک کو داخلی بحران سے بچانے کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ داخلی امن برقرار رکھنے اور صہیونی حکومت کو لبنان میں عدم استحکام کا سبب بننے سے روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

بیان میں لبنانی فوج کے اتحاد اور اس کے کمانڈر روڈولف ہیکل کے ان مؤقف کو سراہا گیا جن کا مقصد قومی یکجہتی کو برقرار رکھنا اور ملک کو خانہ جنگی سے بچانا ہے۔ اجلاس نے داخلی سطح پر ممکنہ ٹارگٹ کلنگ کے خطرے سے بھی خبردار کیا۔

مشاورتی اجلاس کے مطابق جنوبی لبنان خطے میں امن و استحکام کی بنیاد ہے، جبکہ لبنان میں پائیدار استحکام اس وقت ممکن ہوگا جب امریکہ اور جمہوریہ اسلامی ایران کے درمیان وسیع تر مفاہمت قائم ہو، جس میں لبنان کی حکومت اور عوام بھی شریک ہوں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha