اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے سیاسی معاون علی حسن خلیل نے حالیہ سیاسی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان داخلی انتشار اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی طرف دھکیلا گیا تو اس کے تباہ کن نتائج پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ نبیہ بری نے کسی خیالی خطرے کی نہیں بلکہ ایک حقیقی اور سنگین صورتحال کی نشاندہی کی ہے، جس کی قیمت تمام لبنانی عوام کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں امن اور قومی یکجہتی کا تحفظ کسی سیاسی مہم کا حصہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔
علی حسن خلیل نے زور دے کر کہا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو معمولی سمجھنے والے اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ اگر داخلی تصادم شروع ہو گیا تو وہ کسی ایک فریق تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے لبنان کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
یہ بیان لبنانی حکومت اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فریم ورک معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے، جس پر نبیہ بری نے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ یہ معاہدہ ملک میں انتشار، تقسیم اور داخلی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔
انہوں نے گزشتہ روز بھی اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن میں ہونے والا معاہدہ لبنان کے حقوق کے تحفظ کے بجائے ایک مسلط کردہ معاہدہ ہے، جس کا سب سے بڑا خطرہ قومی اتحاد کو نقصان پہنچانا اور لبنانی عوام کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا ہے۔
علی حسن خلیل نے مزید کہا کہ لبنان کے مسائل کا حل داخلی تصادم نہیں بلکہ قومی اتحاد، سیاسی مکالمے اور ایسے اقدامات میں ہے جو ملک کی خودمختاری اور استحکام کو مضبوط بنائیں۔
آپ کا تبصرہ