اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی حکومت اور اسرائیلی حکومت کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ سیکیورٹی معاہدے نے ملک بھر میں شدید سیاسی ردعمل کو جنم دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کو اس وقت تک برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے جب تک حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح نہ کر دیا جائے۔
معاہدے کے بعد بیروت کے مختلف علاقوں، خصوصاً جنوبی ضاحیہ اور الحمرا میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے، جہاں مظاہرین نے حکومت پر قومی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ جس ریاست کی سرزمین اب بھی زیرِ قبضہ ہو، وہ اپنی سلامتی اسی طاقت کے حوالے نہیں کر سکتی جو اس قبضے کی ذمہ دار ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ محض ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ لبنان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم اور متنازع حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران حکومت نے امریکہ کی پالیسیوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے حزب اللہ پر دباؤ بڑھایا، اور اب قومی سلامتی کو اسرائیل کے ساتھ ایک ایسے معاہدے سے جوڑ دیا گیا ہے جس پر ملک کے اندر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں شام کی حالیہ صورتحال کو بھی بطور مثال پیش کیا گیا ہے، جہاں اسرائیلی کارروائیوں اور سرحدی پیش قدمی کے باوجود مؤثر ردعمل سامنے نہ آنے کو بعض حلقے مغربی حمایت حاصل کرنے کی ناکام حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں۔ مضمون میں استدلال کیا گیا ہے کہ لبنان بھی اسی طرزِ عمل کو دہرا رہا ہے۔
تجزیے میں 1982 میں اسرائیل کے لبنان پر حملے اور صبرا و شتیلا کے قتلِ عام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہی واقعات کے بعد حزب اللہ کی مزاحمتی تحریک نے جنم لیا۔ مضمون کے مطابق جب تک اسرائیل کی جانب سے قبضے اور سلامتی کے خطرات برقرار رہیں گے، مزاحمت کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے لبنانی فوج کے لیے اعلان کردہ 30 ملین ڈالر کی امداد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کا حصہ سمجھی جا رہی ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق یہ رقم اسرائیل کی فوجی صلاحیت کے مقابلے میں مؤثر دفاع کے لیے ناکافی ہے۔
مضمون کے اختتام پر اس مؤقف کا اظہار کیا گیا ہے کہ لبنان کو بیرونی ضمانتوں پر انحصار کرنے کے بجائے قومی اتحاد کو مضبوط بناتے ہوئے ریاست، فوج اور مزاحمتی قوتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ملکی خودمختاری، مقبوضہ علاقوں کی آزادی اور قیدیوں کی واپسی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
آپ کا تبصرہ