اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی الشعب تحریک کے بانی نجاح واکیم نے لبنان اور اسرائیلی رژیم کے درمیان طے پانے والے نام نہاد فریم ورک معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ لبنان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی ایک کوشش ہے۔
خبری ویب سائٹ العہد سے گفتگو کرتے ہوئے نجاح واکیم نے اس معاہدے کو "ذلت آمیز" قرار دیا اور کہا کہ مذاکرات میں شریک لبنانی وفد نے قومی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کے بقول یہ معاہدہ 17 مئی 1983ء کے معاہدے سے مشابہ ہے، کیونکہ اس میں لبنان کی ذمہ داریوں کو اسرائیلی رژیم کی تشخیص، مطالبات اور سکیورٹی مفادات سے جوڑ دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک کی حکومتوں نے امریکا اور اسرائیلی رژیم کی پالیسیوں کا ساتھ دیا، ملک داخلی بحران اور تصادم کا شکار ہوا۔ انہوں نے 1957ء، 1975ء، 1980ء اور 1983ء کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض عرب ممالک، خصوصاً سعودی عرب، کی موجودہ لبنانی پالیسیوں کی حمایت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
نجاح واکیم نے الزام لگایا کہ امریکا اور اسرائیلی رژیم لبنان کو ایک نئی خانہ جنگی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول لبنانی حکومت کی اسرائیلی رژیم کے ساتھ براہِ راست مذاکرات، نام نہاد فریم ورک معاہدے پر دستخط اور سرکاری مؤقف اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا مقابلہ عوامی شعور بیدار کرنے، معاہدے کی مخالفت کرنے اور پرامن احتجاج کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول اس معاہدے کا اصل مقصد اس پر عمل درآمد نہیں بلکہ لبنان کے اندر اختلافات کو ہوا دینا اور ملک کو ایک نئے داخلی بحران اور خانہ جنگی میں دھکیلنا ہے۔
آپ کا تبصرہ