اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے مفتی جعفری اعلیٰ شیخ احمد قبلان نے لبنانی حکومت اور اسرائیلی رژیم کے درمیان ممکنہ معاہدے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے غیر قانونی اور غیر مشروع قرار دیا ہے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی ثالثی سے طے پانے والا یہ معاہدہ لبنان کی خودمختاری اور آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور یہ ملک کی تاریخ کے بڑے بحرانوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت اس معاہدے میں صرف اپنی نمائندگی کر رہی ہے، عوامِ لبنان کی نہیں۔
شیخ احمد قبلان نے مزید الزام عائد کیا کہ اس معاہدے کے بعض نکات اسرائیلی فوج کو لبنان کی فوج اور مقبوضہ علاقوں کے حوالے سے وسیع اختیارات دیتے ہیں، جس سے بالواسطہ طور پر لبنان کے بعض علاقوں پر اسرائیلی تسلط کو قبول کرنے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال لبنان کی قومی خودمختاری کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ معاہدہ ایک “قومی تباہی” کے مترادف ہے اور جو عناصر لبنانی فوج کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ دراصل ریاستی اداروں کو کمزور کر رہے ہیں۔ شیخ احمد قبلان نے کہا کہ یہ معاہدہ لبنان کے فیصلے کو واشنگٹن اور تل ابیب کے ہاتھ میں دینے کے مترادف ہے اور انہوں نے واضح کیا کہ “یہ ذلت آمیز معاہدہ کسی بھی قیمت پر نافذ نہیں ہو گا۔”
آپ کا تبصرہ