27 جون 2026 - 17:35
اسرائیلی تجزیہ کار: نیتن یاہو اقتدار کی لت میں مبتلا ہیں

تل ابیب: اسرائیلی اخبار معاریو کے ایک سیاسی تجزیہ کار نے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حکومت نے اسرائیلی رژیم کو اندرونی اور بیرونی بحرانوں سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ حالیہ جنگوں کا اصل مقصد ایران کے جوہری پروگرام کا مقابلہ نہیں بلکہ خطے میں اسرائیل کی برتری برقرار رکھنا تھا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی اخبار معاریو کے سیاسی تجزیہ کار ران ادلیست نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی حکومت تل ابیب پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے ذریعے اسرائیلی رژیم کو مشکل صورتحال سے دوچار کر رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ بنیامین نیتن یاہو اسرائیل کو تباہ کرنا نہیں چاہتے، لیکن ان کی پالیسیوں نے اسرائیلی رژیم کے سیاسی اور جمہوری ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے، اور اگر یہی روش جاری رہی تو اس کے نتیجے میں سلامتی، معیشت اور سیاسی نظام بتدریج مزید زوال کا شکار ہوں گے۔

ران ادلیست نے نیتن یاہو کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں "اقتدار کی لت میں مبتلا" قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ حالیہ جنگوں کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا نہیں بلکہ خطے میں اسرائیل کی برتری کو برقرار رکھنا تھا۔ ان کے مطابق ایران کا جوہری معاملہ اصل سبب سے زیادہ نیتن یاہو حکومت کے سیاسی اور سکیورٹی اہداف کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔

اسرائیلی تجزیہ کار نے مزید لکھا کہ ایران پر وسیع حملوں کے باوجود تہران اب بھی خطے کی اہم طاقت ہے، اور حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ تل ابیب اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

انہوں نے اپنے مضمون کے اختتام پر حالیہ جنگوں سے متعلق فیصلوں کی تحقیقات کے لیے ایک سرکاری تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کو خطے سے متعلق اپنی پالیسیوں پر جواب دہ ہونا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha