اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نبیہ بری نے کہا کہ وہ لبنان کے وزیراعظم نواف سلام اور صدر جوزف عون کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کے درمیان اختلافات کے باوجود ملک کے بنیادی امور پر وسیع ہم آہنگی موجود ہے، جن میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، شہریوں کی واپسی، قیدیوں کی رہائی اور تباہ شدہ علاقوں کی تعمیرِ نو شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں جو جنگ بندی کے قیام کا سبب بنیں، اور امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ برقرار رہے گا، تاہم اس کا انحصار اسرائیل کی پابندی پر ہے۔
نبیہ بری کے مطابق جنگ بندی کے دوران مذاکرات کو دباؤ کے ماحول میں نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی امریکی دباؤ کے بعد قبول کی، اس سے پہلے جنوبی لبنان میں ہونے والے حملوں میں عام شہری، امدادی کارکنان، خواتین اور بچے نشانہ بنے۔
انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کو مرحلہ وار انخلا کے لیے ایک واضح ٹائم ٹیبل طے کرنا ہوگا، جس کے بدلے میں لبنانی فوج کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔ ان کے مطابق یہی طریقہ جنوبی لبنان کو قبضے سے مکمل نجات دلانے کا مختصر ترین راستہ ہے۔
نبیہ بری نے مزید کہا کہ اسرائیلی افواج کے کسی بھی علاقے سے انخلا کے ساتھ لبنانی فوج کی موجودگی ضروری ہے تاکہ بے گھر افراد کو اپنے علاقوں میں محفوظ واپسی کا موقع مل سکے۔
آپ کا تبصرہ