13 جون 2026 - 15:44
یدیعوت آحارانوت کا اعتراف: ایران کے ساتھ جنگ میں اسرائیل کے چار بنیادی تزویراتی مفروضے غلط ثابت ہوئے

صہیونی اخبار یدیعوت آحارانوت نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کا جائزہ لیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل کے چار اہم تزویراتی مفروضے غلط ثابت ہوگئے ہیں، جن میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت، خلیج فارس میں امریکی اڈوں کا کردار، سعودی عرب کی پوزیشن اور محورِ مقاومت کے بارے میں تل ابیب کی دیرینہ سوچ شامل ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی اخبار یدیعوت آحارانوت نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اسرائیل کے کئی بنیادی تصورات کو چیلنج کر دیا ہے۔ اخبار کے مطابق اب یہ سوال اہم ہے کہ آیا جنگ نے یہ تبدیلیاں پیدا کیں یا صرف پہلے سے موجود حقائق کو آشکار کر دیا۔

امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات اب یک رخی نہیں رہے

رپورٹ کے مطابق پہلا مفروضہ امریکہ اور اسرائیل کے خصوصی تعلقات سے متعلق تھا۔ اخبار نے لکھا کہ اگرچہ اسرائیل اب بھی خطے میں واشنگٹن کا اہم اتحادی ہے، تاہم امریکہ اب خلیج فارس کے استحکام، ایران کے ساتھ مذاکرات، علاقائی مفادات اور سعودی عرب کے ساتھ معاملات سمیت متعدد ترجیحات میں مصروف ہے، جہاں اسرائیل مرکزی کردار نہیں رہا۔

اخبار نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ایک ہی رات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بنیامین نیتن یاہو کو کیے گئے دو فون کالز، جن کا مقصد اسرائیلی ردعمل کو محدود کرنا تھا، اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کا اتحاد اب ماضی کی طرح یک جہتی اور غیر مشروط نہیں رہا۔

امریکی فوجی اڈے تحفظ نہیں، خطرے کی علامت بن گئے

یدیعوت آحارانوت کے مطابق دوسرا مفروضہ خلیج فارس میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی سے متعلق تھا۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ اڈے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے حفاظتی ڈھال ہیں، لیکن حالیہ جنگ نے اس تصور کو غلط ثابت کر دیا۔

اخبار نے لکھا کہ قطر میں العدید، متحدہ عرب امارات میں الظفرہ، سعودی عرب میں شہزادہ سلطان ایئر بیس اور بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں اربوں ڈالر کا خسارہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اڈے نہ صرف اپنے عملے اور میزبان ممالک کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے بلکہ خود مستقل خطرے کے مراکز بن گئے۔

سعودی عرب اب اسرائیل کے منصوبوں کا محور نہیں

رپورٹ میں تیسرے مفروضے کے طور پر سعودی عرب کے کردار کا ذکر کیا گیا۔ اخبار کے مطابق اسرائیل ایک طویل عرصے سے سعودی عرب کو عرب دنیا میں تعلقات کی معمول سازی کے منصوبے کا مرکزی ستون تصور کرتا رہا، لیکن موجودہ حالات میں ریاض اس منصوبے کا حصہ دکھائی نہیں دیتا۔

اخبار نے اعتراف کیا کہ سعودی عرب اب نہ تو اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کا فعال شراکت دار ہے اور نہ ہی ایسا مستقل اتحادی، بلکہ وہ اپنی قومی ترجیحات اور تہران کے ساتھ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کر رہا ہے۔

ایران نے حزب اللہ کے دفاع کے لیے براہِ راست کارروائی کی

یدیعوت آحارانوت نے چوتھے اور سب سے اہم مفروضے کو محورِ مقاومت کے ڈھانچے سے متعلق قرار دیا۔ اخبار کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں سے اسرائیل یہ سمجھتا رہا کہ حزب اللہ، انصار اللہ اور دیگر مزاحمتی گروہ ایران کے لیے دفاعی حصار کا کردار ادا کرتے ہیں تاکہ کسی بھی خطرے کو ایرانی سرزمین سے دور رکھا جا سکے۔

تاہم رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ حالیہ جنگ کے دوران صورتحال مکمل طور پر الٹ دکھائی دی۔ اخبار کے بقول اس مرتبہ محورِ مقاومت نے ایران کا دفاع نہیں کیا بلکہ ایران نے لبنان میں حزب اللہ کے دفاع کے لیے اپنی سرزمین سے بیلسٹک میزائل داغے۔

یدیعوت آحارانوت نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھا کہ یہ چاروں مفروضے اسرائیل کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق تزویراتی سوچ کی بنیاد تھے، لیکن صرف ایک سو دن کے اندر یہ تمام تصورات ٹوٹ گئے، اور تل ابیب اب اس نئی حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha